سندھ بجٹ: تنخواہوں و پنشن میں 7 فیصد اضافہ، کم از کم اجرت 43 ہزار مقرر
سپیکر سید اویس قادر شاہ کی زیر صدارت سندھ اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نئے مالی سال کا 3.562 کھرب روپے کا بجٹ ایوان میں پیش کیا جبکہ اس وزیراعلیٰ کی تقریر کے آغاز پر اپوزیشن نے خواب ہنگامہ آرائی کی۔
بجٹ تقریر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ خوشی ہے مسلسل 13ویں بار بجٹ ایوان میں پیش کر رہا ہوں، بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے پُر عزم ہیں۔
تنخواہوں و پنشن میں اضافہ
وزیراعلیٰ نے سندھ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے اور ایڈہاک رلیف الاؤنس 2022ء اور 2025ء ضم کرنےکا اعلان کیا جبکہ صوبے میں کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 43 ہزار روپے مقرر کر دی گئی۔
سید مراد علی شاہ نے کراچی میں 'سندھ انٹرنیشنل فائننشل سینٹر' قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فائننشل سینٹر انفراسٹرکچر فنانس، اسلامک فنانس اور کلائمیٹ فنانس کا پلیٹ فارم ہو گا۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کیٹی بندر کو عالمی بحری، لاجسٹکس، انڈسٹریل اور توانائی مرکز بنائے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پورٹ قاسم کی بنیاد رکھی، شہید بینظیر بھٹو کے وژن کے تحت اب چیئرمین بلاول بھٹو کیٹی بندر کی نئی معاشی تقدیر رقم کریں گے، پورٹ قاسم کے بعد کیٹی بندر سندھ کی معاشی ترقی کا اگلا عظیم سنگِ میل بننے جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خام تیل کی قیمتیں گزشتہ تین ماہ کی کم ترین سطح پر آگئیں
انہوں نے کہا کہ کیٹی بندر کے ذریعے پاکستان عالمی تجارتی راستوں سے مزید مضبوط انداز میں منسلک ہو گا، کیٹی بندر منصوبہ دھابیجی اسپیشل اکنامک زون اور تھر کے کوئلہ وسائل سے منسلک ہو گا، ہم کیٹی بندر کو پاکستان کا نیا معاشی اور بحری گیٹ وے بنائیں گے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے وژن کے تحت کراچی کو عالمی سرمایہ کاری کے مرکز بنا رہے ہیں، شہر کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر قائم کیا جا رہا ہے، ڈیجیٹل سندھ وژن کے تحت گرین ڈیٹا انفراسٹرکچر اور اے آئی اکانومی کی بنیاد رکھی جا رہی ہے، بلاول بھٹو کے وژن کے مطابق سندھ کو قابلِ تجدید توانائی کا مرکز بنایا جا رہا ہے۔
سولر پروگرام
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سولر پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، 18 ارب روپے کی لاگت سے 2 لاکھ 75 ہزار مفت سولر ہوم سسٹمز تقسیم کیے جائیں گے، غریب گھرانوں کو مفت سولر سسٹمز فراہم کر چکے ہیں ، متوسط طبقے کے لیے رعایتی سولر فنانسنگ پروگرام متعارف کرانے جار رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی سرمایہ کاری کے لیے 'سندھ گرین ڈیٹا انفراسٹرکچر انیشیٹو' کا آغاز کرنے جا رہے ہیں، عالمی معیار کے ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری لائی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کسان دوست وژن کے تحت زرعی کلیکٹوز کے ذریعے چھوٹے ہاریوں کو نئی معاشی طاقت دی جا رہی ہے، سندھ میں سرمایہ کاری، صنعت، تجارت اور روزگار کے نئے دروازے کھولے جا رہے ہیں، ہم سندھ کو جنوبی ایشیا کی ابھرتی ہوئی معاشی طاقت بنانے کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
اس کو بھی دیکھیں: بینظیر موبائل سم کے حصول کی تاریخ میں توسیع کا اعلان
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے ترقیاتی وژن کے تحت تجارت، ٹیکنالوجی، فنانس اور توانائی کا علاقائی مرکز بنایا جا رہا ہے، سندھ حکومت کا اگلا مرحلہ فلاح سے خوشحالی اور خوشحالی سے معاشی قیادت کی جانب سفر ہے۔
ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام
وزیراعلیٰ نے کچرے سے ایندھن اور تجارتی مصنوعات بنانے کا ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام متعارف کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام سے کچرے کو معاشی وسائل میں تبدیل کیا جائے گا، ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام سے کاربن کریڈٹس پیدا ہوں گے اور ماحولیاتی آلودگی کم ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے کسانوں کیلئے خصوصی قانون سازی کا فیصلہ کیا گیا ہے، چھوٹے آبادگاروں کے لیے زرعی اجتماعی اداروں کے قیام کی قانون سازی ہو گی، ہاریوں کو مشینری، مالیات، انشورنس اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی دی جائے گی، موسمیاتی چیلنجز کے باوجود کسان ملک کی غذائی ضروریات پوری کر رہے ہیں، ہمارے محنت کش معیشت کا پہیہ رواں رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے تعلیم، زراعت، انشورنس اور روزگار کے شعبوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ تعلیمی معاونتی خدمات پر سیلز ٹیکس کم کر کے 5 فیصد کر دیا گیا، سوشل پروٹیکشن پیکیج کے لیے 13.2 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سوشل پروٹیکشن میں کچن گارڈن، بینظیر ہاری کارڈ اور بینظیر ویمن ایگریکلچر ورکرز پروگرام شامل ہیں، سوشل پروٹیکشن پیکیج کے تحت بیواؤں اور یتیموں کے لیے بھی امدادی اسکیمیں جاری رہیں گی۔
یہ بھی دیکھیں: بجلی کے بلوں کا نیا اور آسان فارمیٹ متعارف
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سے منسلک بیوٹی سیلونز اور اوورسیز ایمپلائمنٹ ریکروٹنگ ایجنسیوں کے لیے رعایتی ٹیکس برقرار ہے، زرعی سپر ٹیکس کی استثنیٰ کی حد 150 ملین سے بڑھا کر 500 ملین روپے کر دی گئی ہے، زرعی سپر ٹیکس کی شرح کو بھی 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دیا گیا ہے۔
ترقیاتی پروگرام
ان کا کہنا تھا کہ نئے مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کا حجم 400 ارب روپے مقرر ہے، لوکل گورنمنٹ اور میونسپل انفراسٹرکچر کے لیے سب سے زیادہ 121.6 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے لیے 40.9 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے منصوبوں کے لیے 39.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، آبپاشی منصوبوں کیلئے 30.9 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے، تعلیم کے شعبے کے لئے 25.9 ارب روپے کی ترقیاتی رقم مختص کی گئی ہے، صحت کے شعبے کے لیے 17.4 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مقرر کیا گیا ہے۔
زرعی ترقیاتی بجٹ
انہوں نے بتایا کہ زراعت اور لائیوسٹاک کے ترقیاتی کاموں کے لیے 6.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، شہر کراچی کی ترقی کے لیے میگا ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، گریٹر کراچی سیوریج پلان (ایس تھری) پر 32 ارب روپے سے زائد لاگت سے کام جاری ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ لیاری ٹرانسفارمیشن پیکیج کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، کراچی ٹریفک کوریڈور امپروومنٹ پروگرام کے لیے 4.17 ارب روپے کی فنڈنگ کی ہے، کراچی کے اندرونی سڑکوں کی بحالی کے منصوبے پر 5.53 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی سینٹرل کی پانچ ٹاؤن میونسپل کمیٹیوں میں سڑکوں کی بہتری کے لیے 3.18 ارب روپے مختص کیے ہیں، کے ایم سی فائر بریگیڈ سروسز کی جدید خطوط پر اپ گریڈیشن کے لیے 7.69 ارب روپے کی رقم مختص کی ہے۔
ٹرانسپورٹ پروگرام
وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں عوامی ٹرانسپورٹ نظام کو مزید مضبوط بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کےلئے 4.8 ارب روپے کی لاگت سے 50 جدید ڈبل ڈیکر بسوں کی خریداری کی منظوری دی گئی ہے، 25 ڈبل ڈیکر بسیں آئندہ تین ماہ میں شہر کراچی کی سڑکوں پر آ جائیں گی، ڈبل ڈیکر بسیں روزانہ 30 سے 35 ہزار مسافروں کو سفری سہولت فراہم کریں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں پنک بس سروس کی توسیع کرینگے ، 28 بسیں مختلف روٹس پر چل رہی ہیں، گرین لائن کوریڈور پر خواتین کے لیے خصوصی پنک بس سروس جاری ہے، کراچی میں الیکٹرک بسوں کی تعداد میں اضافہ گیا ہے، مزید 100 ای وی بسیں شامل کی جائیں گی،گرین لائن، اورنج لائن اور پیپلز بس سروس میں آٹومیٹڈ فیئر کلیکشن سسٹم نافذ کیا گیا ہے۔
سیف سٹی پراجیکٹ
مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں سندھ سیف سٹیز پروگرام کے تحت 1325 اسمارٹ کیمرے نصب کیے گئے، چہرہ شناس اور نمبر پلیٹ شناختی ٹیکنالوجی سے نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنا گیا ہے، کراچی میں گاڑیوں کی چوری اور چھیننے کے واقعات میں 67 فیصد اور اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں 54 فیصد کمی ریکارڈکی گئی ہے۔