وزیراعظم رمضان پیکیج 9999 کے تحت مستحق افراد کو 13 ہزار روپے نقد امداد فراہم کی جائے گی تاکہ مہنگائی کے بڑھتے ہوئے اثرات کو کم کیا جا سکے اور ضرورت مند خاندانوں کو ریلیف دیا جا سکے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق اس پروگرام کا مقصد معاشی دباؤ کا شکار گھرانوں کو براہ راست مالی سہارا دینا ہے، تاکہ وہ رمضان المبارک میں بنیادی ضروریات زندگی با آسانی پوری کر سکیں، حکومت نے شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے سادہ اور آسان طریقہ کار متعارف کرایا ہے۔
اہلیت جانچنے کیلئے شہری اپنا قومی شناختی کارڈ (CNIC) نمبر 9999 پر SMS کریں، سسٹم کی جانب سے تصدیقی پیغام موصول ہوگا جس کے ذریعے درخواست گزار اپنی اہلیت کی حیثیت معلوم کر سکے گا۔ حکام کے مطابق یہ سہولت ملک کے تمام بڑے موبائل نیٹ ورکس پر دستیاب ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آپ رمضان پیکج 13 ہزار کے اہل ہیں یا نہیں؟ جانیے
متعلقہ اداروں نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ صرف سرکاری چینلز اور آفیشل طریقہ کار استعمال کریں، کسی بھی غیر مصدقہ کال، پیغام یا تیسرے فریق کو ذاتی معلومات فراہم کرنے سے گریز کیا جائے تاکہ دھوکہ دہی سے بچا جا سکے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ مستحق افراد کی بروقت مدد یقینی بنانے کیلئے ڈیجیٹل تصدیقی نظام کو فعال رکھا گیا ہے، رقم کی فراہمی کا عمل شفاف انداز میں مکمل کیا جائے گا۔
حکومت پاکستان کے اس رمضان پیکج کے اہم نکات میں امداد کی رقم، مستحقین کی تعداد، شفاف طریقہ کار، اضافی فنڈز وغیرہ شامل ہے۔ امداد کی رقم کے مطابق ہر مستحق خاندان کو 13,000 روپے دیے جائیں گے۔ یہ رقم تقریباً 1 کروڑ 21 لاکھ خاندانوں میں بلا تفریق تقسیم کی جائے گی۔ رقم کی منتقلی ڈیجیٹل والٹس اور بینک اکاؤنٹس کے ذریعے براہ راست کی جائے گی تاکہ کسی قسم کی کرپشن کا خدشہ نہ رہے۔ پہلے سے زیرِ کفالت افراد (مثلاً بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے صارفین) کے لیے بھی 10 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:رمضان احساس پروگرام: 12500 حاصل کرنے کا طریقہ جانیے
حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ زیادہ تر مستحق خاندان پہلے ہی سرکاری ریکارڈ میں شامل ہیں، اس لیے انہیں علیحدہ سے درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ جن افراد کا اندراج پہلے سے سماجی تحفظ کے پروگرام میں موجود ہے، انہیں خودکار طریقے سے شامل کیا جائے گا۔
البتہ اگر کوئی خاندان خود کو مستحق سمجھتا ہے مگر اس کا اندراج نہیں ہے تو وہ متعلقہ سرکاری دفاتر یا آن لائن نظام کے ذریعے اپنی معلومات کی تصدیق کروا سکتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مستحق افراد کی نشاندہی شفاف طریقے سے کی جائے گی تاکہ اصل حقدار تک رقم پہنچ سکے۔
یہ بھی پڑھیں:رمضان المبارک میں 10 ہزار حاصل کرنے کا طریقہ جانیے
اس سال امدادی رقم نقد تقسیم کرنے کے بجائے براہِ راست بینک اکاؤنٹ یا ڈیجیٹل بٹوے میں منتقل کی جائے گی۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ ماضی میں یوٹیلٹی اسٹورز پر طویل قطاریں اور ناقص اشیاء کی شکایات سامنے آتی تھیں، جس سے مستحق افراد کی عزتِ نفس مجروح ہوتی تھی۔ اسی لیے حکومت نے نظام کو تبدیل کرتے ہوئے براہِ راست مالی امداد کی پالیسی اپنائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ پنجاب کا محنت کشوں کیلئے رمضان میں بڑا ریلیف
رقم کی ادائیگی کے لیے مرکزی بینک، یعنی اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے باقاعدہ طریقہ کار جاری کیا ہے تاکہ ادائیگی شفاف، تیز اور محفوظ ہو۔ مستحق خاندان کو اطلاع موصول ہونے کے بعد وہ اپنی رقم بینک یا منظور شدہ مراکز سے حاصل کر سکیں گے۔
یاد رہے وزیراعظم رمضان پیکیج کے لیے اس لنک سے اپنے گھرانے کی اہلیت چیک کریں۔ pmrrp.nitb.gov.pk