برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی تحقیق میں سامنے آنے والی تفصیلات کے بعد متاثرہ خاندانوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی ۔
رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب تونسہ میں متعدد بچوں کے ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آئے، کئی خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں میں اس بیماری کے روایتی خطرات موجود نہیں تھے، جس کے بعد شبہات طبی سہولیات اور علاج کے طریقہ کار پر جا ٹھہرے۔
تحقیقات کے مطابق نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان کم از کم 331 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی، جس نے نہ صرف عوام بلکہ حکام کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔
متاثرہ خاندانوں کی کہانیاں اس سانحے کے انسانی پہلو کو مزید دردناک بنا دیتی ہیں، ایک کم عمر بچے کی ایچ آئی وی سے جڑی پیچیدگیوں کے باعث موت ہو گئی جبکہ اس کی بہن بھی ایچ آئی وی پازیٹو نکلی، حالانکہ ان کی والدہ کا ٹیسٹ منفی آیا۔
یہ بھی پڑھیں: لیڈی ولنگٹن ہسپتال میں آپریشن کے مقابلے کی ویڈیو وائرل، وزیر صحت کا نوٹس
اہلِ خانہ کا ماننا ہے کہ معمول کے علاج کے دوران آلودہ انجیکشنز کے استعمال نے ان کے بچوں کو اس جان لیوا مرض میں مبتلا کیا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ تونسہ کے ایک سرکاری ہسپتال میں انتہائی خطرناک طبی طرزِ عمل اپنایا جا رہا تھا، خفیہ طور پر حاصل کی گئی معلومات کے مطابق عملہ ایک ہی سرنج کو ادویات کی شیشیوں میں بار بار استعمال کرتا رہا، جبکہ بعض صورتوں میں ممکنہ آلودگی کے باوجود ایک ہی دوا مختلف بچوں کو لگائی گئی۔
ماہرین کے مطابق ایسا طریقہ کار ایچ آئی وی جیسے وائرس کے پھیلاؤ کا بڑا سبب بن سکتا ہے، صحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صرف سوئی تبدیل کر دینا کافی نہیں ہوتا، کیونکہ وائرس سرنج کے اندرونی حصے میں باقی رہ سکتا ہے اور اگلے مریض کو متاثر کر سکتا ہے۔
ڈاکٹروں نے ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کی کمزور تربیت، ناقص نگرانی اور حفاظتی اصولوں پر عملدرآمد کی کمی کو بھی تشویشناک قرار دیا ہے۔
دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے فوٹیج کی صداقت پر سوال اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہسپتال مریضوں کے لیے محفوظ ہے۔
یہ بھی دیکھیں: پنجاب، چیف منسٹر کارڈک سرجری پروگرام کا باقاعدہ آغاز
حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابھی تک ایسا کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں جو براہِ راست ہسپتال کو اس وبا کا ذمہ دار ثابت کرے، تاہم مختلف رپورٹس اور تحقیقات نے شبہات کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک ہسپتال تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے صحت کے نظام میں موجود گہرے مسائل کی نشاندہی کرتا ہے، ملک میں غیر ضروری انجیکشنز کے استعمال کا رجحان پہلے ہی تشویش کا باعث رہا ہے جبکہ مریض بھی اکثر انجیکشن کو فوری علاج سمجھتے ہیں۔
یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے پہلے بھی پاکستان میں اسی نوعیت کے واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں دوبارہ استعمال ہونے والی سرنجوں کو ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دیا گیا، کراچی سمیت دیگر شہروں سے بھی بچوں میں اسی طرح کے انفیکشنز کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں، جس سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ مسئلہ کہیں زیادہ وسیع ہو سکتا ہے۔
ایچ آئی وی سے متاثرہ یہ بچے اب نہ صرف زندگی بھر علاج کے محتاج ہوں گے بلکہ انہیں سماجی دباؤ اور امتیازی رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔
اس کو بھی پڑھیں: ہائی بلڈ شوگر آنکھوں کے لیے نقصان دہ، مگر کیسے؟
کئی خاندانوں کا کہنا ہے کہ بیماری سے زیادہ تکلیف دہ معاشرتی رویہ ہے، کیونکہ خوف اور لاعلمی کے باعث بہت سے لوگ ان بچوں سے دوری اختیار کر لیتے ہیں، اس کے باوجود متاثرہ خاندان اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے امید کا دامن تھامے ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہسپتالوں میں سخت حفاظتی قوانین، مؤثر نگرانی اور عملے کی بہتر تربیت کو فوری ترجیح نہ دی گئی تو ایسے سانحات دوبارہ بھی جنم لے سکتے ہیں۔