لیڈی ولنگٹن ہسپتال میں آپریشن کے مقابلے کی ویڈیو وائرل، وزیر صحت کا نوٹس
لاہور کے لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں ایک ہی آپریشن تھیٹر میں دو الگ الگ زچگی آپریشنز کے دوران ڈاکٹرز کے درمیان مقابلے بازی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس پر وزیر صحت نے نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کا عندیہ دے دیا۔
فوٹو وائرل ویڈیو سے سکرین گریب
لاہور: (سنو نیوز) لاہور کے لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں ایک ہی آپریشن تھیٹر میں دو الگ الگ زچگی آپریشنز کے دوران ڈاکٹرز کے درمیان مقابلے بازی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس پر وزیر صحت نے نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کا عندیہ دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں دو خواتین کے سی سیکشن (آپریشن) کے دوران ڈاکٹر طیبہ اور ڈاکٹر عائشہ کی ٹیمیں تھیٹر میں موجود تھیں۔

اس دوران تھیٹر میں کھڑی سٹاف نے ویڈیو بنائی اور بتایا کہ دونوں ٹیموں کے درمیان تیز ترین آپریشن کرنے کا مقابلہ چل رہا ہے جس کا فیصلہ ڈاکٹر عیسیٰ کریں گے۔

ویڈیو بنانے والی لڑکیوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک ڈاکٹر طیبہ کی سپورٹر ہے اور دوسری ڈاکٹر عائشہ کی ہے اور دونوں کے درمیان فُل مقابلہ چل رہا ہے۔

صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے لیڈی ولنگڈن ہسپتال لاہور میں ڈاکٹرز کی جانب سے ویڈیو بنانے کے واقعہ کا سخت نوٹس لے لیا۔

خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ ڈاکٹرز کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو پرانی ہے، ذمہ داران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی، اس اخلاقی و مجرمانہ غفلت پر ذمہ داران کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: طبی عملے کے لیے ہیلتھ الاؤنس کے نئے قواعد جاری

سیکرٹری صحت عظمت محمود کی ہدایت پر واقعہ کی تحقیقات کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی، سیکرٹری ہیلتھ عظمت محمود نے کہا کہ ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج معالجہ کے دوران موبائل فون استعمال کرنے کی بالکل اجازت نہیں۔ 

دوسری جانب حکومت پنجاب نے لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں وڈیو بنانے کے واقعہ کے ذمہ داران کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے ایم ایس لیڈی ولنگڈن ہسپتال ڈاکٹر فرح انعام اور ہیڈ آف گائنی ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ حسین سے تین روز میں جواب طلب کر لیا۔

محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے اس حوالہ سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق چار ڈاکٹرز ، ڈاکٹر طیبہ فاطمہ طور، ڈاکٹر ماہم امین، ڈاکٹر زینب طاہر اور ڈاکٹر عائشہ افضل کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کو معطل کر دیا گیا، پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹس کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو رپورٹ کریں۔

مراسلہ میں کہا گیا کہ اس طرح کے مبینہ اقدامات طبی اخلاقیات کی خلاف ورزی، مریض کے وقار کی توہین اور پیشہ ورانہ مہارت کی خلاف ورزی کی نمائندگی کرتے ہیں، مجاز اتھارٹی نے اسے سرکاری ذمہ داریوں کی ادائیگی میں غفلت کی ایک سنگین مثال قرار دیا ہے، جو کہ سنگین بدنظمی اور انتظامی خامیوں کی عکاسی کرتی ہے۔

سیکرٹری صحت پنجاب عظمت محمود نے کہا کہ مقررہ وقت میں تسلی بخش جواب جمع نہ کروانے کی صورت میں تادیبی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔