حکومت کا آئندہ 6 ماہ تک گیس کی قیمتیں نہ بڑھانے کا اعلان
وفاقی حکومت نے عوام کو نئے سال کا ایک اور تحفہ دیتے ہوئے یکم جنوری سے گیس کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
فائل فوٹو
اسلام آباد: (سنو نیوز) وفاقی حکومت نے عوام کو نئے سال کا ایک اور تحفہ دیتے ہوئے یکم جنوری سے آئندہ چھ ماہ تک گیس کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ یکم جنوری سے گیس کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی، وزیراعظم شہباز شریف کے احکامات پر یکم جنوری سے گیس کی قیمتیں نہیں بڑھائی جا رہیں۔

وفاقی وزیر پٹرولیم کا کہنا تھا کہ گیس کے گردشی قرض میں مزید اضافہ نہیں ہو رہا، قطر نے مشکل صورتحال میں معاہدہ کی شرائط کو برقرار رکھا ہے۔

علی پرویز ملک نے دوران اجلاس مزید بتایا کہ سوئی کمپنیوں کو کہا ہے صرف ارجنٹ فیس والے گھریلو صارفین کے ایل این جی کنکشن ہی نہ لگائیں بلکہ ارجنٹ فیس کے بغیر والے گھریلو صارفین کے بھی ایل این جی کنکشن لگانے شروع کریں۔

یہ بھی دیکھیں: ملک کے مختلف علاقوں میں گیس بندش کا اعلان

وزیر پٹرولیم کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر گیس کی قیمتوں میں اگلے چھ ماہ تک کوئی اضافہ نہیں ہو گا، گیس سیکٹر میں سرکلر ڈیٹ کا اضافہ رک گیا ہے، نیا قرض پیدا نہیں ہو رہا، قطر سے اضافی ایل این جی کارگو عالمی منڈی میں منتقل کرنے کا کامیاب معاہدہ ہو گیا ہے۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ اصلاحات کے باعث تمام صارفین کیلئے گیس کی قیمتیں برقرار رہیں گی، وزیراعظم کی ہدایت پر عوام کو موسم سرما میں زیادہ سے زیادہ ریلیف دے رہے ہیں، ملک بھر میں گھریلو صارفین کو گیس کی بہتر فراہمی جاری ہے ۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کوئی بھی مقامی گیس فیلڈ بند نہیں ہے، بجلی گھر آئی جی سیپ ڈیمانڈ سے زائد گیس لے رہے ہیں ۔

اس موقع پر سوئی گیس حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ ایس این جی پی ایل میں یو ایف جی نقصانات 9 فیصد سے کم ہو کر 5 فیصد ہو گئے ہیں، ایس ایس جی سی میں یو ایف جی نقصانات 17 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد رہ گئے ہیں، گیس نیٹ ورک پر آئی او ٹی مانیٹرنگ سسٹم فعال، پریشر ڈراپ پر سوئی کمپنی فوری الرٹ ہو رہی ہے۔

حکام کا مزید کہنا تھا کہ گیس کی فراہمی کے اوقات صبح 5 بجے سے رات 10 بجے تک بڑھا دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کی بجلی صارفین کیلئے میگا ریلیف کی تیاری

یاد رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں وزیراعظم شہباز شریف نے ایک تقریب کے دوران ملک بھر میں صارفین کے لیے گھریلو گیس کنکشن کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے تقریب کے دوران کہا تھا کہ حکومت نے گھریلو صارفین کے لیے ملک بھر میں گیس کنکشن کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، 2022 میں جب پی ڈی ایم کی حکومت بنی تو ہر طرف سے بے پناہ دباؤ تھا کہ گیس کا کنکشن دیا جائے، اس وقت ہمیں گیس کی فراہمی میں مشکلات درپیش تھیں، اس لیے ہر درخواست دہندہ سے ہمیں معذرت کرنا پڑی تھی۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ طویل انتظار کے بعد آج وہ دن آیا ہےکہ ملک بھر میں گھریلو صارفین کے لیے معیاری ایندھن ری گیسیفائیڈ لیکویڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کے کنکشن کا اجراء کیا جا رہا ہے۔

اس کو بھی پڑھیں: بجلی اور گیس کنکشنز کی تبدیلی کا نیا طریقہ کار جاری

دوسری جانب حکومت اعلان کے بعد لاکھوں صارفین نے نئے گھریلو گیس کنکشن کے لیے درخواستیں جمع کرا دیں تاہم سوئی ناردرن میں سیلز اسٹاف کی شدید کمی کے باعث ان درخواستوں کی پروسیسنگ میں نمایاں تاخیر بھی ہوئی۔

حکام کے مطابق پابندی ختم ہونے کے بعد آر ایل این جی کے نئے کنکشنز فراہم کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور کمپنی تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے تاکہ صارفین کو جلد از جلد سہولت فراہم کی جا سکے۔