چکن، خطرناک بیماری کا خطرہ؟ تحقیق نے خبردار کر دیا
chicken consumption health risk
فائل فوٹو
(ویب ڈیسک): تحقیق کے مطابق زیادہ مقدار میں چکن کھانے کو معدے سمیت کئی خطرناک بیماریوں سے جوڑا گیا ہے۔

چکن کو عموماً سرخ گوشت کے مقابلے میں زیادہ صحت بخش تصور کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ وزن کم کرنے، فٹنس اور ورزش کے شوقین افراد اپنی روزمرہ خوراک میں اسے خاص جگہ دیتے ہیں، تاہم حالیہ تحقیق نے اس عام تاثر کو چیلنج کردیا ہے۔

اطالوی سائنسدانوں کی ایک تحقیق جو کہ معروف سائنسی جریدے نیوٹرینٹس میں شائع ہوئی ہے میں انکشاف کیا گیا کہ وہ افراد جو ہفتے میں 300 گرام سے زائد چکن استعمال کرتے ہیں ان میں معدے اور آنتوں کے کینسر کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق ایسے افراد میں مجموعی طور پر موت کا خطرہ 27 فیصد زیادہ پایا گیا ہے جبکہ مردوں میں یہ خطرہ 2.6 گنا تک بڑھ سکتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ خطرہ صرف معدے کے کینسر تک محدود نہیں بلکہ جگر، لبلبے اور آنتوں کے دیگر کنسرز سے بھی تعلق رکھتا ہے، تاہم ماہرین نے واضح کیا کہ چکن بذات خود کینسر کی براہ راست وجہ ثابت نہیں ہوا بلکہ اصل مسئلہ اس کے حد سے زیادہ استعمال اور پکانے کے غلط طریقوں سے جڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نادرا میں نیٹ ورک پروفیشنلز کے لیے ملازمتوں کا اعلان

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ درجہ حرارت پر چکن کو تلنے یا گرل کرنے سے مضر کیمیائی مرکبات بنتے ہیں جو انسانی ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اس کے علاؤہ پراسیس شدہ چکن، غیر متوازن غذا اور پولٹری فارمنگ میں استعمال ہونے والی اینٹی بائیوٹکس بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔

ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ چکن کو مکمل طور پر ترک کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ اعتدال اختیار کرنا ضروری ہے، ان کے مطابق ہفتے میں 300 گرام تک چکن نسبتاً محفوظ ہے جبکہ خوراک میں مچھلی، انڈے، دالیں، سبزیاں اور فائبر کو شامل کرنا صحت مند زندگی کیلئے ناگزیر ہے۔