مکہ دفاعی معاہدہ، تہران میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کا اہم اجلاس
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اجلاس میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکیے کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ ابراہیم قالن شریک ہیں۔
سعودی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ یہ دورہ علاقائی بحران کے فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کی حوصلہ افزائی اور سفارتی حل کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے جاری رابطوں کا حصہ ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ مکہ معاہدے برائے مشترکہ دفاع میں شامل ممالک علاقائی بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بیان میں قطر اور پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی کی کوششوں کی حمایت کا بھی اعادہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا حوثیوں کے 11 میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری نے بھی اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے اعلیٰ حکام ایرانی حکام سے علاقائی سلامتی کے امور پر مشاورت کریں گے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے گزشتہ ہفتے دورۂ ایران کے دوران سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی سے ملاقات میں مشترکہ اجلاس کے انعقاد کے فیصلے سے آگاہ کیا تھا۔
علی باقری کا کہنا تھا کہ ایران علاقائی ممالک کی شمولیت سے خطے کی سلامتی یقینی بنانے اور بیرونی مداخلت کا مقابلہ کرنے کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان تعاون علاقائی سلامتی کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی بتایا کہ علاقائی سلامتی سے متعلق بات چیت میں اسرائیل کی پالیسیوں، فلسطینی علاقوں اور لبنان کی صورت حال کے علاوہ ایران پر امریکی و اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے اثرات بھی زیر بحث آئیں گے۔
رائٹرز کے مطابق سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے اعلیٰ حکام کے درمیان یہ پہلی اعلیٰ سطح کی ملاقات ہے۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے نے رواں برس اگست میں مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
اجلاس کو خطے میں دفاعی تعاون بڑھانے، سفارتی روابط مضبوط بنانے اور علاقائی بحرانوں کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی تشکیل دینے کی اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اجلاس کے حتمی فیصلوں اور عملی اقدامات کی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔