سعودی عرب کا حوثیوں کے 11 میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ
سعودی محکمہ شہری دفاع نے بتایا کہ اتوار کو دو بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد ان کا ملبہ خمیس مشیط اور احد رفیدہ کے علاقوں میں گرا، جس کے نتیجے میں 2 افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں ایک سعودی شہری اور ایک ایشیائی باشندہ شامل ہے۔ میزائلوں کے ملبے سے 3 رہائشی عمارتوں اور 7 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
سعودی حکام نے میزائل حملوں کا ذمہ دار یمن کی حوثی ملیشیا کو قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر کل ہی بڑا حملہ ہو سکتا ہے،ڈونلڈ ٹرمپ
سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان کے بیان سے قبل اے ایف پی کے ایک صحافی نے اطلاع دی تھی کہ ریاض میں تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ یہ دھماکے اس وقت ہوئے جب مقامی رہائشیوں کو فضائی خطرے سے متعلق انتباہی پیغامات موصول ہوئے تھے ۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دو ہفتے کی بندش کے بعد اتوار کو پروازیں بحال کردی گئیں، تاہم یمن کے حوثی باغیوں کے حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔
ایئرپورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق دبئی، پیرس اور قاہرہ سمیت مختلف شہروں سے آنے والی ملکی و بین الاقوامی پروازیں شیڈول کی گئیں۔ بحالی کے روز ریاض میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں، جبکہ شہریوں کو ممکنہ خطرے سے متعلق پیغامات بھیجے گئے۔ فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ کے مطابق چند پروازیں روانہ ہوئیں، تاہم بیشتر منسوخ رہیں۔