ایران پر کل ہی بڑا حملہ ہو سکتا ہے،ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر کے اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی اور ممکنہ فوجی کارروائی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے وقت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے وقت کے بارے میں کچھ نہیں بتائیں گے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے معاملے کو بہت اچھے طریقے سے نمٹایا گیا ہے، تاہم اب ممکن ہے کہ باقی ماندہ کام بھی مکمل کرنا پڑے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ سفارتی معاہدے کے امکان کے ساتھ فوجی کارروائی کے آپشن کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب ایک امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق ممکنہ حملے کی تیاریوں کے سلسلے میں امریکی طیارہ بردار جہاز جارج واشنگٹن کو ہتھیاروں اور میزائلوں کے ذخیرے کی سپلائی پہنچائی جا چکی ہے۔
رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ سعودی عرب، اردن، قطر، متحدہ عرب امارات اور لبنان میں امریکی سفارتی عملے کی تعداد کم کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ سکیورٹی خدشات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ آیا امریکا ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرے گا یا دونوں ممالک کسی بڑے معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے، آنے والے دن خطے کی صورت حال کے حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔