ایران کا امریکا کو انتباہ، جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا اعلان
باقر قالیباف نے اتوار کو پارلیمنٹ کے اجلاس کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے کہا ایران کسی دھمکی سے مرعوب نہیں ہوگا اور اپنی سرزمین پر حملے کی صورت میں بھرپور جواب دے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ جب تک امریکا اپنا طرزِ عمل تبدیل نہیں کرتا، دھونس اور لالچ کی پالیسی ترک نہیں کرتا اور وعدوں کی خلاف ورزیوں کا عملی ازالہ نہیں کرتا، اس وقت تک اس کے کسی دعوے پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا کہنا تھا کہ امریکا موجودہ ایران اور ماضی میں رضا شاہ پہلوی کے دور کی بادشاہت کے درمیان بنیادی فرق سمجھنے میں ناکام رہا ہے، جب واشنگٹن کی حمایت یافتہ حکومت کے دور میں غیر ملکی طاقتوں کو ملکی معاملات میں نمایاں اثر و رسوخ حاصل تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر کل ہی بڑا حملہ ہو سکتا ہے،ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے کہا کہ ایران اب مغربی ممالک کے زیرِ اثر کوئی نوآبادی نہیں بلکہ ایک آزاد اور طاقتور علاقائی قوت ہے۔ ان کے مطابق سامراجی اور صہیونی قوتوں کی ایران کی خودمختاری اور مستقبل پر دوبارہ غلبہ حاصل کرنے کی خواہش اب ایک ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہو چکی ہے۔
باقر قالیباف نے الزام عائد کیا کہ امریکا اپنی غلط حکمت عملی اور ایران کے خلاف جنگ شروع کرکے ایک دلدل میں پھنس چکا ہے۔ اس صورت حال سے نکلنے کے لیے امریکا کو خود ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر پابندیاں عائد کرنا اور حملوں کی دھمکیاں دینا خطے پر غلبہ حاصل کرنے کی امریکی پالیسی کا تسلسل ہے۔ ایران اب ایسا ملک نہیں رہا جس کی قومی تقدیر کا فیصلہ غیر ملکی طاقتیں کرسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ یا ایرانی قیادت کو قتل کرنے کی دھمکیاں بھی ایرانی قوم کو اپنے حقوق اور مفادات سے دستبردار نہیں کر سکتیں۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے اتوار کے روز جنوبی ساحلی شہر بندر عباس میں امریکی فوج کا جدید لوکاس ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق بندر عباس کے اوپر پرواز کرنے والے ڈرون کو ملک کے مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک کے تحت متحرک دفاعی نظام نے نشانہ بنا کر تباہ کیا۔
ادھر امریکی جریدے بلومبرگ کی ایک تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف نئے حملوں کی تیاری شروع کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ 27 اکتوبر کو اسرائیل اور 3 نومبر کو امریکا میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر بڑے حملوں کا حکم دے سکتے ہیں۔