ماسکو پر یوکرین کا اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ
روسی حکام کے مطابق ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب شروع ہونے والے حملوں میں ماسکو کی جانب آنے والے تقریباً 450 ڈرونز کو مار گرایا یا روکا گیا، جبکہ ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین کے مطابق ہفتے سے اب تک مختلف علاقوں میں 1600 سے زائد یوکرینی ڈرونز کو ناکام بنایا گیا۔ روسی وزارت دفاع نے صرف رات کے دوران 1110 ڈرونز کو تباہ کرنے یا روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ماسکو کے میئر کے مطابق متعدد ڈرون ماسکو آئل ریفائنری کے احاطے تک پہنچے، جبکہ ایک ڈرون رہائشی عمارت سے بھی ٹکرایا۔ ریفائنری میں دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے اور ہنگامی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ ریفائنری کو پہنچنے والے نقصان اور اس کی پیداواری صلاحیت پر پڑنے والے اثرات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
ماسکو ریجن کے گورنر آندرے وروبیوف کے مطابق ڈرون حملوں میں ابتدائی طور پر دو افراد ہلاک ہوئے، جبکہ بعد کی اطلاعات میں ایک اور زخمی کے اسپتال میں دم توڑنے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد تین بتائی گئی۔ ایک 21 منزلہ رہائشی عمارت کو خالی کرایا گیا جہاں سے تقریباً 400 افراد کو نکالا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی امریکا کو پیش کردہ 7 شرائط میں سے 3 اہم مطالبات سامنے آگئے
حکام کے مطابق ماسکو ریجن میں گھروں اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ بعض ہوائی اڈوں پر پروازوں کی عارضی پابندیاں عائد کی گئیں۔
ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے حملے کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد روسی پارلیمانی انتخابات کے عمل میں خلل ڈالنا تھا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ یوکرین نے فوری طور پر حملے کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت نہیں دی۔
دوسری جانب یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرین کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں اور ڈرونز نے ماسکو ریجن میں اہم اثرات مرتب کیے۔ انہوں نے روس کی تیل اور لاجسٹکس سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا، تاہم حملے کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں ہو سکی۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان طویل فاصلے تک ڈرون حملوں میں حالیہ عرصے کے دوران اضافہ دیکھا گیا ہے اور دونوں جانب توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔