پاکستان سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں: ذبیح اللہ مجاہد
عرب میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل ہونے چاہئیں، کابل پاکستان کے ساتھ بات چیت اور تعاون جاری رکھنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سمیت تمام ممالک کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان مسائل کے حل کیلئے کی جانے والی کوششوں کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ سعودی عرب افغانستان کا دوست ملک ہے اور اس حیثیت سے وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان رابطے اور مفاہمت میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔
انہوں نے سعودی حکام سے توقع ظاہر کی کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان موجود اختلافات کم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔
طالبان ترجمان نے سعودی عرب اور حرمین شریفین کے حوالے سے افغان عوام کے احترام اور محبت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ افغانستان سعودی عرب کی ثالثی کی کوششوں کا احترام کرتا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اور سکیورٹی سے متعلق اختلافات کے تناظر میں سعودی عرب پہلے بھی رابطہ کاری اور سفارتی کوششوں میں شامل رہا ہے۔ فروری 2026 میں سعودی کوششوں کے نتیجے میں افغانستان نے تین پاکستانی فوجیوں کو سعودی وفد کے حوالے کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی ایئر بیس پر حوثیوں کا ڈرون حملہ
واضح رہے کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ طالبان اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔