پڑوسی ممالک کو اپنی سرزمین سے ایران پرحملوں کی اجازت نہیں دینی چاہیے، ایرانی صدر
صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ ہمیں متحدہ عرب امارات یا خطے کے کسی اور ملک سے کوئی مسئلہ نہیں، ہم جنگ کے خواہاں نہیں، خطےکے ممالک ہمارے بھائی ہیں، ہمیں خطےکے ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں سے مسئلہ ہے، امریکی فوجی اڈوں سے ایران پر حملے ہوتے ہیں۔
ایرانی صدر نے کہا کہ یہ امریکا ہےجو ہمارے خطے میں داخل ہوا ہے خطےکے تمام ممالک سے خوشگوار تعلقات چاہتے ہیں لیکن امریکا ایسا ہونے نہیں دینا چاہتا، امریکا خطےکے پٹرولیم ذخائر کو اپنے استعمال میں لانا چاہتا ہے اور اپنے ہتھیار اور میزائل فروخت کرکے خطے کا امن و استحکام تباہ کرنا چاہتا ہے۔
ایرانی صدر نے تجویز دی کہ علاقائی سکیورٹی کے لیےخطے کے ممالک کو خود مل کر کام کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا جنگ ختم؟ صدر ٹرمپ کا بڑا اعلان
مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ پاکستان دوست ہمسایہ ملک ہےجس نےامن کے لیے بہت مدد کی، قطر نے بھی مدد کی، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد بھی ہم سے دوبارہ مذاکرات کا مطالبہ سمجھ سے باہر ہے، مفاہمتی یادداشت میں ہم نےامریکی پابندیاں ختم ہونے کا لکھا تھاجو انہیں ختم کرنی ہوں گی۔
انٹرویو کے دوران ایرانی صدر نے کہا کہ جنگ ہم نے شروع نہیں کی تھی، جارحیت امریکا کو ہی ختم کرنا ہوگی، جوہری معاملات کے لیے ہمیں بیٹھ کربات کرنی تھی، اس کے لیے ہم تیار ہیں، امریکا سےبراہ راست مذاکرات سے متعلق ہم کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا نےایرانی عوام کے دلوں میں بسنے والے رہنما کا قتل کیا ہے جو کبھی نہیں بھلایا جاسکتا، امریکا پہلے دن سے ہماری حکومت گرانا چاہتا ہے۔
سعودی عرب اور حوثیوں کے تنازع پر بات کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ ہماری سعودی عرب سے جنگ نہیں، حوثیوں کے اپنے مسائل ہیں۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ خطے کے امن و استحکام کے لیے خطےکےتمام ممالک کو مل بیٹھ کر کام کرنا چاہیے، جب یورپی ممالک ایک ساتھ مل کر اپنی سکیورٹی اور تجارت کے لیے قوانین بناسکتے ہیں توہم کیوں نہیں۔
ایران کے موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے سپریم لیڈر زندہ ہیں اور پہلے کی طرح نظام کے اندر اپنا کردار ادا کررہے ہیں، دشمن ان کےٹھکانےکا سراغ لگانے میں ناکام رہا اسی لیے مختلف قیاس آرائیاں کررہا ہے، دشمن ہمارے نئے سپریم لیڈر کو بھی نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔