وفاقی سرکاری ملازمین کی وفات پر معاونتی پیکیج میں بڑی تبدیلی، نیا پیکیج نافذ
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے نظرثانی شدہ معاونتی پیکیج کا آفس میمورنڈم جاری کردیا گیا ہے، جس کے مطابق نیا پیکیج 28 اگست 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔
نظرثانی شدہ پیکیج کو عمومی وفات اور سیکیورٹی سے متعلقہ وفات، دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی سے متعلقہ وفات کی صورت میں ملازم کے گریڈ کے مطابق ایک کروڑ سے دو کروڑ روپے تک لم سم گرانٹ مقرر کی گئی ہے۔
نئے پیکیج کے تحت شہید ملازم کے خاندان کو اس کی ریٹائرمنٹ کی عمر تک مکمل تنخواہ اور الاؤنسز فراہم کیے جائیں گے، جبکہ شہداء کے بچوں کو گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن تک مفت تعلیم کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔اسی طرح شہید ملازم کی بیوہ یا بچوں میں سے ایک فرد کو بی ایس 1 سے 15 تک مستقل ملازمت فراہم کی جائے گی۔
سیکیورٹی سے متعلقہ وفات کی صورت میں گریڈ کے مطابق مکان کی خرید یا تعمیر کے لیے ایک کروڑ 35 لاکھ سے 5 کروڑ روپے تک رقم بھی دی جائے گی، دوسری جانب عمومی وفات کی صورت میں ملازم کے گریڈ کے مطابق 6 سے 30 لاکھ روپے تک لم سم گرانٹ مقرر کی گئی ہے، جبکہ ورثاء کو 100 فیصد پنشن فراہم کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: نئے صوبوں کا معاملے، حکومت کا اہم اعلان سامنے آگیا
حکومت نے 10 سال سے کم سروس کرنے والے ملازمین کے ورثاء کے لیے بھی سہولت رکھی ہے، جس کے تحت انہیں کم از کم 10 سال کی سروس کے حساب سے پنشن دی جائے گی۔
عمومی وفات کی صورت میں سرکاری رہائش یا کرائے کے مکان کی سہولت ریٹائرمنٹ تک یا کم از کم 5 سال تک جاری رکھنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔
آفس میمورنڈم کے مطابق تمام وزارتوں اور محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ملازمین کے ورثاء کی تفصیلات اور جی پی فنڈ کی نامزدگی پہلے سے محفوظ رکھی جائیں تاکہ وفات کی صورت میں سہولیات کی فراہمی میں تاخیر نہ ہو۔
ورثاء کو ایک ماہ کے اندر تمام سہولیات فراہم کرنے کو یقینی بنانے کے لیے ہر وزارت میں ایک افسر کو بطور کونسل مقرر کیا جائے گا۔
نیا معاونتی پیکیج تمام مستقل وفاقی سرکاری ملازمین پر لاگو ہوگا، جبکہ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت سابقہ شہداء پیکیجز کو بھی سپر سیڈ کردیا گیا ہے۔