نیپال میں تباہ کن سیلاب نے قیامت ڈھا دی، ہلاکتیں 903 تک پہنچ گئیں
نیپالی حکام کے مطابق شدید سیلاب کے باعث متعدد علاقوں میں مواصلاتی نظام اور بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کے 6 مقامات پر 933 کارکن پھنسے ہوئے ہیں، جنہیں نکالنے کیلئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ کئی کارکن سرنگوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ریسکیو ٹیمیں انہیں بحفاظت باہر نکالنے کیلئے مسلسل کوششیں کر رہی ہیں، دشوار گزار صورتحال کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب نیپالی وزارتِ تعلیم نے بھی سیلاب کے بعد تعلیمی اداروں کے 200 سے زائد طلبہ کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی ہے، جس کے باعث متاثرہ خاندانوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق سیلابی ریلوں میں بہہ جانے والی متعدد لاشیں متاثرہ علاقوں سے تقریباً 100 کلومیٹر دور میدانی علاقوں سے برآمد ہوئی ہیں، جبکہ مزید لاشیں ملنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تباہ کن سیلاب نے اسکولوں، اسپتالوں، پن بجلی گھروں، سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:یوکرین پر روسی ڈرون حملہ، 37 شہری ہلاک جبکہ 42 زخمی
نیپالی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ملک کو عمومی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کیلئے غیر ملکی مدد کی ضرورت نہیں، تاہم سرنگوں میں پھنسے افراد کو نکالنے، خصوصی تکنیکی معاونت، ٹرانسپورٹ اور لاشوں کو محفوظ رکھنے سمیت شناخت کے عمل کے لیے بیرونی تعاون درکار ہے۔