یوکرین پر روسی ڈرون حملہ، 37 شہری ہلاک جبکہ 42 زخمی
غیرملکی میڈیا کے مطابق مبینہ روسی ڈرون حملہ کیف کے نواح میں واقع ایک اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جس کے نتیجے میں شدید دھماکے ہوئے اور اردگرد کے علاقوں میں بھی نقصان پہنچا۔
رپورٹس کے مطابق دھماکے کے باعث تقریباً 50 رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا، متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔ زخمیوں کو طبی امداد کیلئے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہری آبادی کے درمیان اسلحہ ڈپو موجود نہیں ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے واقعے کو لاپرواہی قرار دیتے ہوئے اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور مکمل تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔
زیلنسکی کا کہنا تھا کہ شہری آبادی میں اسلحہ ڈپو کی موجودگی کے معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ ایسی حساس تنصیب رہائشی علاقے میں کیوں قائم تھی اور واقعے کے ذمہ دار کون ہیں۔
یوکرینی صدر نے روس کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو کو اپنے ہر اقدام کے ردعمل کا سامنا کرنا ہوگا۔
حالیہ واقعے کے بعد یوکرین میں ایک بار پھر شہری علاقوں کی حفاظت اور جنگ کے دوران حساس تنصیبات کی موجودگی کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ حکام کی جانب سے ہلاکتوں اور نقصانات سے متعلق مزید تفصیلات جمع کی جارہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایکواڈور کے سابق صدر کرپشن کیس میں 5 سال قید کی سزا
دوسری جانب امدادی ادارے متاثرہ علاقے میں سرچ اور ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے کیلئے ہنگامی اقدامات کیے جارہے ہیں۔