مکہ دفاعی معاہدے پر ٹرمپ کا خیرمقدم
اپنے ایک بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے حال ہی میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کا مظہر ہے کہ مشرقِ وسطیٰ متحد ہورہا ہے اور ممالک اب زیادہ مؤثر انداز میں اپنا دفاع کرنے کے قابل ہوں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
معاہدے کی اہم شق کے مطابق کسی ایک ملک کیخلاف ہونے والی جارحیت کو تینوں ممالک کیخلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد ممکنہ خطرات کے مقابلے میں مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور تینوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔
مکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ دفاعی شعبے میں تعاون، مشترکہ حکمت عملی اور باہمی سکیورٹی روابط کو وسعت دیں گے۔ اس معاہدے کو خطے میں دفاعی تعاون کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے معاہدے کا خیرمقدم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ہولناک ٹریفک حادثے میں 5 نوجوان ہلاک، 4 افراد زخمی
ٹرمپ نے اپنے بیان میں تینوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ علاقائی ممالک مستقبل میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مؤثر بنانے کیلئے باہمی تعاون جاری رکھیں گے۔