خلیجی اتحادی ممالک صدر ٹرمپ سے مایوس ہونے لگے
خلیج کے امریکی اتحادی اس بات پر پریشان ہیں کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ امن کے لیے ضروری سفارتی عمل کو مؤثر طریقے سے آگے بڑھانے میں ناکام ہیں۔
خلیجی ممالک نے اپنی سرزمین پر امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی جاری رکھنے یا نہ رکھنے پر بھی غور شروع کر دیا۔ کئی ماہ سے جاری جنگ اور ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کے مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد بعض خلیجی ممالک میں یہ بحث بھی شروع ہوگئی ہےکہ اپنی سرزمین پر بڑے امریکی فوجی اڈے آخر کس حد تک فائدہ مند ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم نے ایرانی پائلٹس حراست میں نہیں لیے: قطر
دوسری طرف خلیجی ممالک اب بھی واشنگٹن کو اپنا قریبی سکیورٹی شراکت دار اور اسلحے کا ایک بڑا فراہم کنندہ سمجھتے ہیں۔ قطر اور بحرین میں بڑے امریکی فوجی اڈے بھی موجود ہیں۔ تاہم بڑھتی ہوئی مایوسی کے باعث بعض ممالک نئے سکیورٹی انتظامات پر غور کر رہے ہیں اور کچھ ممالک نے اپنے متبادل راستے بھی تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں۔
گزشتہ ہفتے سعودی عرب، ترکیے اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے کو ایک سینئر یورپی عہدیدار نے امریکا کے لیے ایک اشارہ قرار دیتے ہوئےکہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ ٹرمپ کے لیے واضح اشارہ ہےکہ خلیجی ممالک اب دفاعی سکیورٹی کے لیے صرف امریکا پر انحصار نہیں کرنا چاہتے۔