سعودی عرب کی آرامکو ریفائنری کے بعد ایک اور حملہ

سعودی عرب میں آرامکو ریفائنری پر حوثیوں کے ڈرون حملوں کی خبریں
حوثیوں نے جازان آرامکو ریفائنری پر ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے جبکہ المخا میں بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہے/فائل فوٹو
Updated 14 گھنٹے قبل | Published August, 10 2026 |
صنعا:(ویب ڈیسک) یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے جازان میں آرامکو ریفائنری کو ڈرون سے نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے جبکہ یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر المخا میں بھی میزائل اور ڈرون حملوں کے اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ جازان میں سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی ریفائنری کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم دوسری جانب سعودی وزارت توانائی نے ریفائنری میں آگ لگنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

جازان ریفائنری سعودی عرب کی اہم توانائی تنصیبات میں شامل ہے اور اس کی خام تیل پراسیسنگ کی صلاحیت تقریبا 4 لاکھ بیرل یومیہ ہے۔

رواں سال جولائی میں بھی جازان ریفائنری پر حملے کے بعد اسے عارضی طور پر بند کیے جانے کی اطلاعات سامنے ائی تھیں۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس حملے میں ریفائنری کے انٹیگریٹڈ گیسیفیکشن کمبائنڈ سائیکل کمپلیکس اور ٹینک فارم حصے کو نقصان پہنچا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ریفائنری کو دوبارہ چلانے کے لیے مرمت کا عمل شروع کیا گیا تھا۔

المخا میں میزائل اور ڈرون حملے

دوسری جانب یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر المخا میں بھی حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے ائی ہے، یمنی فوج کے مطابق حملوں میں شہری تنصیبات اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

تازہ رپورٹ کے مطابق یمنی فوج نے بتایا کہ حملوں میں سات افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوئے، جن میں فوجی اہلکار اور عام شہری شامل ہیں، تاہم اعداد و شمار میں کئی جگہ فرق آرہا ہے، یمنی فوج کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے حملے میں شامل 11 حوثی ڈرونز بھی مار گرائے۔

حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے حملے کا مقصد سعودی فوجیوں کی موجودگی اور ہتھیاروں کے ذخائر کو نشانہ بنانا قرار دیا، جبکہ یمنی فوج کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں اور تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران میں تباہ امریکی طیاروں اور ڈرونز کا ملبہ نمائش کیلئے پیش

خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے ائی ہے جب بحیرہ احمر اور مشرقی وسطی میں پہلے ہی سکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہے۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعووں کے ساتھ ساتھ یمن کے ساحلی علاقوں میں حملوں نے خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

جازان ریفائنری جیسے توانائی کے اہم مراکز کو لاحق خطرات سعودی عرب کی توانائی تنصیبات اور خطے کی تیل سپلائی کے حوالے سے بھی اہم سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ

تازہ صورتحال کے دوران سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ پاکستان اور ترکیہ نے معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے اور اسے کسی مخصوص ملک کے خلاف اتحاد نہیں بتایا۔

پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کو نشانہ بنانے کیلئے نہیں کیا گیا۔

کرنسی، دھاتوں اور پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ
Currency → PKR
Currency Pair Rate (PKR) Change
🇺🇸 US Dollar USD → PKR 276.80
🇪🇺 Euro EUR → PKR 319.89 ▼ 0.12
🇬🇧 British Pound GBP → PKR 373.40 ▼ 0.03
🇸🇦 Saudi Riyal SAR → PKR 73.92 ▲ 0.28
🇦🇪 UAE Dirham AED → PKR 75.37
🇨🇳 Chinese Yuan CNY → PKR 41.02
Current Metals
Metal Unit Price (PKR) Change
Gold 24K Per Tola 452,150 ▲ 10,353
Gold 22K Per Tola 414,471 ▲ 9,490
Gold 21K Per Tola 395,632 ▲ 9,059
Gold 18K Per Tola 339,113 ▲ 7,765
Silver Per Tola 6,616 ▲ 215
Platinum Per oz (USD) 1,755 ▲ 21.7%
Current Petrol
Fuel Type Unit Price (PKR) Change
Petrol Super Per Litre 327.62
Diesel HSD Per Litre 247.42
High Octane Per Litre 350.00 ▼ 95.00
Kerosene Per Litre 289.95
LPG Per Kg 254.32
ضرور پڑھیں