سعودی عرب کی آرامکو ریفائنری کے بعد ایک اور حملہ
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ جازان میں سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی ریفائنری کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم دوسری جانب سعودی وزارت توانائی نے ریفائنری میں آگ لگنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
جازان ریفائنری سعودی عرب کی اہم توانائی تنصیبات میں شامل ہے اور اس کی خام تیل پراسیسنگ کی صلاحیت تقریبا 4 لاکھ بیرل یومیہ ہے۔
رواں سال جولائی میں بھی جازان ریفائنری پر حملے کے بعد اسے عارضی طور پر بند کیے جانے کی اطلاعات سامنے ائی تھیں۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس حملے میں ریفائنری کے انٹیگریٹڈ گیسیفیکشن کمبائنڈ سائیکل کمپلیکس اور ٹینک فارم حصے کو نقصان پہنچا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ریفائنری کو دوبارہ چلانے کے لیے مرمت کا عمل شروع کیا گیا تھا۔
المخا میں میزائل اور ڈرون حملے
دوسری جانب یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر المخا میں بھی حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے ائی ہے، یمنی فوج کے مطابق حملوں میں شہری تنصیبات اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
تازہ رپورٹ کے مطابق یمنی فوج نے بتایا کہ حملوں میں سات افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوئے، جن میں فوجی اہلکار اور عام شہری شامل ہیں، تاہم اعداد و شمار میں کئی جگہ فرق آرہا ہے، یمنی فوج کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے حملے میں شامل 11 حوثی ڈرونز بھی مار گرائے۔
حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے حملے کا مقصد سعودی فوجیوں کی موجودگی اور ہتھیاروں کے ذخائر کو نشانہ بنانا قرار دیا، جبکہ یمنی فوج کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں اور تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں تباہ امریکی طیاروں اور ڈرونز کا ملبہ نمائش کیلئے پیش
خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے ائی ہے جب بحیرہ احمر اور مشرقی وسطی میں پہلے ہی سکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہے۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعووں کے ساتھ ساتھ یمن کے ساحلی علاقوں میں حملوں نے خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
جازان ریفائنری جیسے توانائی کے اہم مراکز کو لاحق خطرات سعودی عرب کی توانائی تنصیبات اور خطے کی تیل سپلائی کے حوالے سے بھی اہم سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ
تازہ صورتحال کے دوران سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ پاکستان اور ترکیہ نے معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے اور اسے کسی مخصوص ملک کے خلاف اتحاد نہیں بتایا۔
پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کو نشانہ بنانے کیلئے نہیں کیا گیا۔