مکہ دفاعی معاہدہ کے رکن ممالک پر حملہ ہوا تو جواب دیں گے، ترک وزیر خارجہ
ایک ٹی وی انٹرویو میں حاکان فیدان نے کہا کہ جب تک کوئی ملک معاہدے میں شامل کسی رکن ملک پر حملہ نہیں کرتا، اس وقت تک کوئی بھی ملک ہمارا ہدف نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدے کی نوعیت تکنیکی طور پر نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسی ہے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام رکن ممالک کیخلاف حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
ترک وزیر خارجہ کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے کے تحت نیٹو کی طرز پر وزرائے خارجہ کی ایک کمیٹی قائم کی جائے گی، جبکہ معاہدے کے معاملات کو مربوط بنانے کیلئے جنرل سیکریٹریٹ بھی تشکیل دیا جائے گا۔
حاکان فیدان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے میں امریکا کو ایران کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی پر ہرجانہ ادا کرنا ہوگا، انہوں نے خطے میں بحری راستوں کی سکیورٹی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی سلامتی ترکیہ کے مفادات سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے ایران نے امریکا کے سامنے چھ شرائط رکھ دیں
ترک وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکیہ کو سعودی عرب کی جانب سے قائم بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہونا چاہیے، تاکہ خطے میں سلامتی اور استحکام کو مزید فروغ دیا جاسکے۔