ٹرمپ کا ایران پر ممکنہ حملہ مؤخر کرنے کا اعلان
ان کے مطابق یہ فیصلہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک کی جانب سے کی گئی درخواستوں کے بعد کیا گیا، تاہم حملے کی منسوخی کا انحصار فوری سفارتی معاہدے پر ہوگا۔
امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اگر جلد کوئی قابل قبول معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایران پر حملہ نہیں کیا جائے گا، اسرائیل نے بھی حملہ مؤخر کرنے پر اتفاق کر لیا ہے، جس سے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کا موقع ملے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے اور ایران کیخلاف کارروائی کی صلاحیت اور اختیار رکھتا ہے، اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے یا مطلوبہ پیشرفت سامنے نہ آئی تو دیگر آپشنز بھی زیر غور رہیں گے۔
امریکی صدر کے بیان کے بعد مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر عالمی توجہ ایک بار پھر مرکوز ہو گئی ہے، مبصرین کے مطابق اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، تاہم مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں صورتحال دوبارہ سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یو اے ای نے پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا پالیسی نرم کر دی
دوسری جانب ٹرمپ کے بیان پر ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، عالمی حلقے اس پیشرفت کو خطے میں ممکنہ کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم سفارتی کوشش قرار دے رہے ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں امریکا، ایران اور دیگر متعلقہ ممالک کے درمیان رابطوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔