ٹرمپ کا ایران پر حملے روکنے کا حکم، جنگ بندی یا نئی ڈیل؟ جانیے
یہ ابھی واضح نہیں ہو سکا کہ یہ فیصلہ صرف ایک دن کیلئے کیا گیا ہے یا اس کے پیچھے کسی ممکنہ جنگ بندی یا سفارتی پیش رفت کا آغاز ہے۔
امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کے روز ایران کیخلاف کوئی فضائی کارروائی نہیں کی گئی، صدر ٹرمپ معمول کے مطابق روزانہ دوپہر کے وقت ایران پر حملوں کی منظوری دیتے تھے، جس کے چند گھنٹوں بعد امریکی فوج کارروائی کرتی تھی، لیکن اس بار انہوں نے پیش کیے گئے منصوبے کی منظوری دینے کے بجائے فوج کو حملے روکنے کی ہدایت جاری کر دی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فوج ایران کیخلاف ممکنہ بڑے حملوں کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے تاحال ان کارروائیوں کی منظوری نہیں دی۔
اس حوالے سے صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس حملے جاری رکھنے اور ان کی شدت میں اضافہ کرنے کا مکمل اختیار موجود ہے، لیکن زیادہ دانشمندانہ حکمت عملی یہ ہے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران اب مذاکرات میں زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، امریکہ ہر ممکن فوجی آپشن کیلئے تیار ہے، تاہم سفارتی رابطے بھی بیک وقت جاری رکھے جا رہے ہیں تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ حملے روکنے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب عمان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد مذاکرات کیلئے ایران پہنچا، جہاں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے ایک نئے معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی حملوں میں 200 سے زائد امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان اسی ہفتے کے آخر تک کسی معاہدے پر اتفاق ہو سکتا ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کریں گے کہ آیا وہ مجوزہ ڈیل کو منظور کرتے ہیں یا دوبارہ فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا جائے گا۔