ایران نے امریکی جنگ بندی کی نئی تجویز مسترد کر دی
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی جنگ بندی کی تجویز عراقی وزیراعظم علی زیدی کے ذریعے ایران تک پہنچائی گئی، عراقی وزیراعظم نے گزشتہ روز تہران کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے امریکی تجویز ایرانی حکام کے سامنے رکھی، تاہم ایران نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی مؤقف ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی، اس وقت تک کسی بھی عارضی جنگ بندی پر غور نہیں کیا جائے گا، موجودہ حالات میں اس کیلئے اپنی بحری اور تزویراتی پالیسی سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے اس مؤقف پر بھی سخت ردعمل دیا ہے جس میں ایرانی اثاثوں سے ممکنہ نقصانات کا ازالہ کرنے کی بات کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کے منجمد اثاثوں کو مستقبل میں غیر متعلقہ دعوؤں کی ادائیگی کیلئے استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین اور مالیاتی اصولوں کیلئے خطرناک نظیر ثابت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں ملک گیر احتجاج کیوجہ بننے والے سونم وانگچک کون ہیں؟
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئندہ جہازوں، ان کے تجارتی سامان یا متعلقہ املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا معاوضہ امریکہ کے کنٹرول میں موجود ایرانی فنڈز سے ادا کیا جا سکتا ہے۔