ایران اور امریکا میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز
مختلف ثالث ممالک دونوں فریقوں کے درمیان تناؤ کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کیلئے سرگرم ہو گئے ہیں،ایران نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسے ثالث ممالک کی جانب سے کئی تجاویز موصول ہوئی ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے نیوز بریفنگ کے دوران بتایا کہ متعدد دوست اور ثالث ممالک خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے مسلسل سفارتی رابطے کر رہے ہیں، ایران کو مختلف تجاویز موصول ہوئی ہیں، جن کا جائزہ قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے لیا جا رہا ہے۔
اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں صرف جنگ یا صرف مذاکرات کو واحد حل قرار دینا درست نہیں، ایران ہر معاملے میں اپنے قومی مفاد، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی قوانین کو ترجیح دے گا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے امریکا پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر امریکی حملے بلاجواز تھے اور انہوں نے مفاہمتی یادداشت کی بھی خلاف ورزی کی۔
انہوں نے طبی مراکز، واٹر پلانٹس اور پلوں پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کارروائیاں بین الاقوامی انسانی قوانین کے منافی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:7 جولائی کو گوگل پر پوری دنیا کیا سرچ کر رہی تھی؟ جانیے
اسماعیل بقائی نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کر رہا، تاہم کسی بھی ممکنہ بات چیت میں قومی مفادات کو اولین ترجیح دی جائے گی۔