پیٹرول کے بعد ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافہ
الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث ٹرانسپورٹرز کے لیے موجودہ حالات میں کام جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ٹول ٹیکس، ود ہولڈنگ ٹیکس اور غیر ضروری چالان فوری طور پر ختم کرے کیونکہ ٹرانسپورٹ شعبے کو کسی قسم کا ریلیف نہیں دیا جا رہا، انکا کہنا تھا کہ حکومتی پالیسیوں کے باعث متعدد ٹرانسپورٹرز اپنی گاڑیاں کھڑی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مٹی کا تیل بھی 34 روپے 33 پیسے فی لیٹر مہنگا
ملک شہزاد اعوان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ٹرانسپورٹ شعبے کو فوری سہولتیں نہ دی گئیں تو اس کے اثرات اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے 5 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا ہے۔ نئی قیمتوں کے مطابق پیٹرول 316 روپے 15 پیسے اور ڈیزل 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہوگیا ہے۔
اس کے علاؤہ مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 34 روپے 33 پیسے فی لیٹر اضافہ کرتے ہوئے نئی قیمت 276 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے، نئی قیمتوں کا اطلاق 18 سے 20 جولائی تک کے لیے کیا گیا ہے۔