پی ٹی اے کا سم کے اجراء کیلئے نیا نظام متعارف کرانے پر غور
رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ایک ایسے نئے طریقہ کار پر کام کر رہی ہے جس کے تحت ان افراد کو سم کارڈ کے حصول میں سہولت دی جا سکے گی جن کے فنگر پرنٹس کی تصدیق نہیں ہو پاتی۔
مجوزہ نظام میں سکیورٹی معیار برقرار رکھتے ہوئے چہرے کی شناخت کے ذریعے تصدیق کی جائے گی، یہ منصوبہ بالخصوص بزرگ شہریوں اور مزدوروں کے لیے تیار کیا گیا ہے جنہیں اکثر فنگر پرنٹس کی تصدیق کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پی ٹی اے نے اس نئے تصدیقی طریقہ کار پر ہونے والی پیش رفت سے متعلق حکومت اور پارلیمان کو تفصیلی رپورٹ جمع کرا دی ہے۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ فنگر پرنٹس کی تصدیق کے مستقل اور محفوظ متبادل کی تلاش میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تجویز کے مطابق چہرے کی شناخت کی تصدیق نادرا کی پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے کی جائے گی۔
پی ٹی اے کا خیال ہے کہ یہ نظام سم رجسٹریشن کے لیے صارفین کی محفوظ اور قابل اعتماد شناخت ممکن بنا سکتا ہے۔
اتھارٹی نے نادرا سے باضابطہ طور پر درخواست کی ہے کہ پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے فنگر پرنٹس اور چہرے، دونوں کی بائیومیٹرک تصدیق کی اجازت دی جائے۔
اتھارٹی نے یہ سفارش بھی کی ہے کہ نادرا ملک بھر میں سم کی تصدیق کے لیے اس ایپ کو باضابطہ منظوری دے۔
یہ بھی پڑھیں: فیس بک سروس پاکستان سمیت دنیا بھر میں متاثر
منظوری ملنے کے بعد ٹیلی کام کمپنیاں اپنے کسٹمر سروس مراکز اور فرنچائز آؤٹ لیٹس پر چہرے کی شناخت کے ذریعے تصدیق کی سہولت فراہم کر سکیں گی۔
اس اقدام سے ہزاروں افراد کے لیے سم رجسٹریشن کا عمل کہیں زیادہ آسان ہو سکتا ہے۔
پی ٹی اے نے یہ بھی بتایا کہ جنوری 2025 سے اب تک متبادل تصدیقی طریقہ کار کے ذریعے 70 ہزار 871 سمیں جاری کی جا چکی ہیں، یہ سمیں ان افراد کو فراہم کی گئیں جن کے فنگر پرنٹس معمول کے بائیومیٹرک نظام سے تصدیق نہیں ہو سکے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ایسے صارفین نے نادرا کی جانب سے جاری کردہ خطوط یا طبی سرٹیفکیٹس جمع کرا کے اپنی تصدیق مکمل کی۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ اس عارضی نظام کے ذریعے ہزاروں افراد کو غیر ضروری تاخیر کے بغیر سمیں حاصل کرنے میں مدد ملی ہے۔