اضافی بلنگ سے پریشان عوام کیلئے اچھی خبر
ماضی میں میٹر کی خرابی، تکنیکی نقص یا بجلی کی کھپت کا درست ریکارڈ ممکن نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قواعد کے تحت صارف کی کھپت کا تخمینہ لگا کر ڈیٹیکشن بلنگ کی جاتی رہی ہے تاہم بعض معاملات میں تخمینہ شدہ کھپت حقیقی استعمال سے مطابقت نہ رکھنے کے باعث صارفین کو اضافی بلنگ اور طویل شکایتی عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ انسانی مداخلت کی گنجائش کے باعث شفافیت اوربے ضابطگیوں سے متعلق خدشات بھی موجود رہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم پر لیوی کی مد میں عوام سے ریکارڈ وصولی
ان مسائل کا نوٹس لیتے ہوئے پاور ڈویژن نے ڈیٹیکشن بلنگ کے نظام کو ڈیجیٹل اور خودکار بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انسانی مداخلت اور غیر ضروری صوابدیدی اختیارات کم سے کم کیے جا سکیں۔
اس سلسلے میں تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو نیپرا کے کنزیومر سروس مینول میں ضروری ترامیم اور دیگر متعلقہ اقدامات کے لیے ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔نئے نظام کے تحت ڈیٹیکشن بلنگ اور اس سے متعلق ریکوری کے عمل کی ماہانہ بنیادوں پر نگرانی کی جائے گی تاکہ اوور بلنگ اور غیر معمولی رجحانات کی بروقت نشاندہی کرکے ضروری کارروائی یقینی بنائی جاسکے۔
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہا کہ پاور سیکٹر میں جاری اصلاحات کا بنیادی مقصد صارفین کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا ہے۔