جبرالٹر اور سپین کے درمیان سرحدی باڑ ختم
نئے معاہدے کے تحت سرحدی آمدورفت کو مزید آسان بنانے کیلئے چیکنگ اور دیگر انتظامات میں بھی بڑی تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق یہ معاہدہ برطانیہ، یورپی یونین اور سپین کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد طے پایا، معاہدے کا مقصد سرحد پار سفر کرنے والے افراد، کاروباری سرگرمیوں اور سیاحت کو سہولت فراہم کرنا ہے۔
نئے انتظامات کے تحت روزانہ سپین سے جبرالٹر کام کیلئے آنے جانے والے ہزاروں افراد کو فائدہ پہنچے گا، جبکہ سیاحوں کیلئے بھی سفر پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان ہو جائے گا۔ معاہدے کے مطابق جبرالٹر کو یورپی شینگن نظام کے ساتھ منسلک کیا جائے گا، تاہم اس کی برطانوی خود مختاری برقرار رہے گی۔
جبرالٹر اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث یورپ اور بحیرۂ روم کے درمیان ایک اہم اسٹریٹجک مقام رکھتا ہے، اسی وجہ سے اس کی سرحدی حیثیت کئی برسوں سے برطانیہ، سپین اور یورپی یونین کے درمیان مذاکرات کا اہم موضوع رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران نے امریکی میزائل دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی صلاحیت حاصل کر لی
ہسپانوی وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے سرحدی باڑ کے خاتمے کو ایک تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام یورپ کی آخری دیوار کے خاتمے کے مترادف ہے، اس فیصلے سے نہ صرف دونوں علاقوں کے درمیان روابط مضبوط ہوں گے بلکہ بریگزٹ کے بعد پیدا ہونے والی عملی مشکلات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔