16 سال سے کم عمر بچے اب انرجی ڈرنکس نہیں خرید سکیں گے
مجوزہ قانون کی منظوری پارلیمنٹ سے ملنے کے بعد یہ پابندی ملک بھر میں نافذ العمل ہو جائے گی۔
لیبر پارٹی کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد بچوں کو کیفین کے زیادہ استعمال سے پیدا ہونے والے صحت کے مسائل سے محفوظ رکھنا اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینا ہے۔
حکام کے مطابق متعدد طبی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ کیفین والی انرجی ڈرنکس بچوں اور نوعمر افراد کی جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
مجوزہ قانون کے تحت وہ تمام انرجی ڈرنکس پابندی کی زد میں آئیں گی جن میں فی لیٹر 150 ملی گرام سے زیادہ کیفین موجود ہوگی۔
حکومت نے واضح کیا کہ یہ پابندی صرف سپر مارکیٹس اور دکانوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ وینڈنگ مشینوں اور آن لائن فروخت پر بھی یکساں طور پر نافذ کی جائے گی، تاکہ قانون پر مؤثر انداز میں عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
انگلینڈ کی وزیر برائے صحت عامہ شیرون ہاڈسن نے کہا کہ حکومت آئندہ نسل کو زیادہ صحت مند بنانے کے اپنے عزم پر قائم ہے، بچوں میں کیفین کے زیادہ استعمال کو محدود کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں نیند کی خرابی، بے چینی، سر درد، دل کی دھڑکن میں تیزی اور پڑھائی کے دوران توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بوائے فرینڈ سے ملکر شوہر کے قتل کا منصوبہ بے نقاب
ماہرینِ صحت نے بھی حکومتی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کم عمری میں زیادہ کیفین کا استعمال بچوں کی جسمانی نشوونما اور ذہنی کارکردگی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ قانون نافذ ہو جاتا ہے تو یہ بچوں کی صحت کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا اور دیگر ممالک بھی ایسے اقدامات پر غور کر سکتے ہیں۔