امریکا کے ایران پر تازہ فضائی حملے، تہران کا سخت ردعمل کا عندیہ
رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے ایرانی جزیرہ قشم، کیش اور ابو موسیٰ کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا تاہم ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی ممکنہ جانی یا مالی نقصان کے حوالے سے کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکا نے تہران کے خلاف اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے اور مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بحری ناکہ بندی بھی کر رکھی ہے۔
دوسری جانب خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے ترجمان نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے ایرانی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو ایران خطے کے انفرااسٹرکچر کو ملیا میٹ کر دے گا۔
ترجمان نے یہ بھی کہا کہ "خطے کے انفرااسٹرکچر کا ایک ایک ٹکڑا ایسے تباہ کریں گے جیسے کبھی اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا، جبکہ عربوں کو اونٹوں اور سینڈل کے دور میں واپس لے جائیں گے۔"
یہ بھی پڑھیں: ایران کا کویت اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملہ
دوسری جانب ایرانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران اپنی طاقت پر انحصار کرے گا، امریکا ہر موقع پر ایران کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتا ہے، ایران کو مزید مضبوط ہونا ہو گا۔
محمد باقر قالیباف کا مزید کہنا تھا کہ جنگ ہو یا مذاکرات، فیصلے قومی مفادات کے مطابق ہوں گے، ایران کی پالیسی سلامتی اور طویل المدتی قومی مفادات پر مبنی ہو گی۔