وائٹ ہاؤس کوریسپونڈینٹ ڈنر میں ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ
غیرملکی میڈیا کے مطابق واقعہ واشنگٹن ڈی سی کے ایک ہوٹل میں پیش آیا جہاں اعلیٰ حکام، صحافیوں اور اہم شخصیات کی بڑی تعداد موجود تھی۔
ذرائع کے مطابق تقریب کا آغاز ہی ہوا تھا کہ اچانک ایک زور دار آواز سنائی دی، جس کے بعد سیکیورٹی ادارے فوری حرکت میں آ گئے۔ سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے نہایت تیزی سے صدر ٹرمپ کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جبکہ دیگر شرکاء کو بھی فوری طور پر ہال سے باہر نکالا گیا۔
واقعے کے دوران نائب صدر جے ڈی وینس اور اسپیکر مائیک جانسن بھی موجود تھے، جنہیں حفاظتی اقدامات کے تحت باہر لے جایا گیا۔
صدر ٹرمپ نے بعد ازاں تصدیق کی کہ فائرنگ کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور وہ زندہ ہے۔ اس سے قبل بعض امریکی اور روسی میڈیا رپورٹس میں حملہ آور کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، تاہم سرکاری سطح پر اس کی تردید کر دی گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ سے قبل صدر ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ کو ایک پرچی دی گئی تھی، جس کے بعد ان کے چہروں پر تشویش نمایاں تھی۔ اچانک گولی چلنے کی آواز سنائی دی تو حاضرین نشستوں سے نیچے جھک گئے جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر اسٹیج کو گھیر لیا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کیلئے بہتر ہو گا وہ ایک اچھی ڈیل قبول کرے:امریکی وزیر جنگ
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اس تقریب سے خطاب کرنا تھا، تاہم واقعے کے بعد تقریب کی کارروائی معطل کر دی گئی۔