ایران کا آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولنے کا اعلان
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھولنے کا اعلان کر دیا۔
فائل فوٹو
تہران: (سنو نیوز) ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھولنے کا اعلان کر دیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جاری ایک پیغام میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو تمام کمرشل جہازوں کے لیے کھول دیا گیا ہے اور جنگ بندی کی باقی مدت کے دوران یہ راستہ مکمل طور پر فعال رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دوران تجارتی جہازوں کی آمد و رفت جاری رہے گی، تاہم جہازوں کو ایران کی بندرگاہوں اور بحری امور کی تنظیم کی جانب سے پہلے سے مقرر کردہ مربوط راستوں پر سفر کرنا ہوگا۔

عباس عراقچی نے کہا کہ یہ اقدام خطے میں کشیدگی میں کمی اور عالمی تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ آبنائے ہرمز ایک اہم سمندری راستہ ہے جو مشرق وسطی میں تیل کی دولت سے مالامال ممالک کو ایشیا، یورپ اور شمالی امریکہ سمیت دیگر دنیا تک ایندھن پہنچانے کے لیے نہایت اہم ہے لیکن یہ ایک ایسا مقام بھی ہے جو دہائیوں سے مقامی تنازعوں کا مرکز رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل ہونے سے انکار

خلیج فارس اور خلیج عمان کے بیچ واقع آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی سرحد کے درمیان موجود ہے جو ایک مقام پر صرف 33 کلومیٹر چوڑی ہے، اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مجموعی عالمی تیل کی رسد کا پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران جیسے ممالک سے تیل دیگر ممالک کو پہنچایا جاتا ہے، اس کے علاوہ دنیا میں سب سے زیادہ ایل این جی برآمد کرنے والا ملک قطر بھی اپنی برآمدات کے لیے اسی گزر گاہ پر انحصار کرتا ہے۔