ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جاری ایک پیغام میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو تمام کمرشل جہازوں کے لیے کھول دیا گیا ہے اور جنگ بندی کی باقی مدت کے دوران یہ راستہ مکمل طور پر فعال رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دوران تجارتی جہازوں کی آمد و رفت جاری رہے گی، تاہم جہازوں کو ایران کی بندرگاہوں اور بحری امور کی تنظیم کی جانب سے پہلے سے مقرر کردہ مربوط راستوں پر سفر کرنا ہوگا۔
In line with the ceasefire in Lebanon, the passage for all commercial vessels through Strait of Hormuz is declared completely open for the remaining period of ceasefire, on the coordinated route as already announced by Ports and Maritime Organisation of the Islamic Rep. of Iran.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 17, 2026
عباس عراقچی نے کہا کہ یہ اقدام خطے میں کشیدگی میں کمی اور عالمی تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ آبنائے ہرمز ایک اہم سمندری راستہ ہے جو مشرق وسطی میں تیل کی دولت سے مالامال ممالک کو ایشیا، یورپ اور شمالی امریکہ سمیت دیگر دنیا تک ایندھن پہنچانے کے لیے نہایت اہم ہے لیکن یہ ایک ایسا مقام بھی ہے جو دہائیوں سے مقامی تنازعوں کا مرکز رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل ہونے سے انکار
خلیج فارس اور خلیج عمان کے بیچ واقع آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی سرحد کے درمیان موجود ہے جو ایک مقام پر صرف 33 کلومیٹر چوڑی ہے، اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مجموعی عالمی تیل کی رسد کا پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران جیسے ممالک سے تیل دیگر ممالک کو پہنچایا جاتا ہے، اس کے علاوہ دنیا میں سب سے زیادہ ایل این جی برآمد کرنے والا ملک قطر بھی اپنی برآمدات کے لیے اسی گزر گاہ پر انحصار کرتا ہے۔