ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق جوابی کارروائیوں میں مشرقِ وسطیٰ بھر میں اسرائیل اور امریکا سے منسلک 500 مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے، تنازع کے آغاز سے اب تک ایرانی مسلح افواج کے بہادر جوانوں نے 60 اسٹریٹیجک اہداف اور 500 امریکی فوجی اہداف اور صہیونی حکومت (اسرائیل) کے مقامات پر حملے کیے ہیں۔
ایران کی جانب سے جاری سرکاری بیان میں بتایا گیا کہ حالیہ جنگ کے دوران امریکی و اسرائیلی تنصیبات و مقامات پر 700 سے زائد ڈرون اور سینکڑوں میزائل داغے گئے ہیں، یہ حملے 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے ردِعمل میں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی اپنے تین ایف 15 لڑاکا طیارے گرنے کی تصدیق
تہران کی کی جانب سے کہا گیا کہ بعض ایرانی میزائل براہِ راست اسرائیلی علاقوں بیت الشمس اور یروشلم کے قریب گرے جن سے اسرائیل میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم چار امریکی فوجی ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 18 امریکی فوجی شدید زخمی ہوئے ہیں، ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے چوتھی ہلاکت کی تصدیق کے بعد یہ تازہ معلومات جاری کیں۔
خلیجی ممالک جہاں امریکی افواج تعینات ہیں، جن میں متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، بحرین، سعودی عرب اور عمان شامل ہیں، وہاں بھی ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
اس کو بھی پڑھیں: آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ بھی اسرائیلی و امریکی حملے میں شہید
ادھر ریڈ کریسنٹ کے مطابق ایران میں 131 اضلاع میں امریکی و اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 555 افراد شہید ہو چکے ہیں، سب سے ہولناک واقعہ مناب میں پیش آیا جہاں ایک لڑکیوں کے پرائمری اسکول پر حملے میں مبینہ طور پر 180 طالبات شہید ہوئیں۔
رپورٹس کے مطابق خطے کی صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور دونوں جانب سے بڑے پیمانے پر حملے جاری ہیں، جس سے وسیع علاقائی جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔