امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 15 روز کے اندر ڈیل کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیا ن کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتیں ہمیں جھکانا چاہتی ہیں لیکن ایرانی عوام ہار نہیں مانے گی ، دباؤ اور دھمکیوں سے ایران اپنا مؤقف ہرگز تبدیل نہیں کرے گا۔
دوسری جانب امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے پیش نظر مشرق وسطیٰ میں 120 سے زائد جنگی طیارے تعینات ہیں، یو ایس ایس ابراہم لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ پہلے ہی خطے میں موجود ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ بھی ایران کے قریب پہنچنے والا ہے، یہ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد خطے میں امریکی فضائی اور بحری طاقت کا سب سے بڑا اجتماع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تہران، جنگی طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ جاں بحق
ادھر امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ان سے سوال کیا کہ اتنے دباؤ اور خطے میں بحری طاقت کی موجودگی کے باوجود ایران ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیوں نہیں کر رہا، ایران یہ کیوں نہیں کہتا کہ اسے ہتھیار نہیں چاہئیں جبکہ امریکا خطے میں اپنی عسکری موجودگی میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔
دوسری جانب برطانوی خبررساں ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جوہری مذاکرات میں امریکا کو اپنی تیل کی صنعت میں سرمایہ کاری کی پیشکش کی ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران معاشی پیکیج میں امریکا کو سرمایہ کاری کی پیشکش کی، ایران اپنے تیل اور معدنی وسائل کا کنٹرول کسی کے حوالے نہیں کرے گا، امریکا ایران کا معاشی شراکت دار ہوسکتا ہےا س سے زیادہ کچھ نہیں۔
اس کو بھی پڑھیں: جارحیت کی گئی تو بھرپور جواب دیا جائے گا، ایران
ایرانی عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ امریکی کمپنیاں ایرانی تیل اور گیس فیلڈ میں ٹھیکیدا ر کے طور پر کام کرسکیں گی، ایران پرامن جوہری افزودگی کے بدلے علاقائی افزودگی کنسورشیم کے قیام پر غور کرسکتا ہے۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق امریکا ایران جوہری مذاکرات کا اگلا دور مارچ میں متوقع ہے۔