جارحیت کی گئی تو بھرپور جواب دیا جائے گا، ایران
Iran warning to UN
فائل فوٹو
تہران: (ویب ڈیسک) اقوام متحدہ میں ایران نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ وہ نہ تو کشیدگی چاہتا ہے اور نہ ہی تصادم، تاہم کسی بھی قسم کی جارحیت کی صورت میں سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں ایرانی مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے امریکا اور اسرائیل پر کڑی تنقید کی اور اجلاس کے انعقاد کو جانبدارانہ قرار دیا۔

امیر سعید ایروانی نے کہا کہ امریکا کا ایران کے معاملے پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلانا شرمناک عمل ہے، اصل حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے مخصوص ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

 انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایرانی سول سوسائٹی کے نمائندوں کے نام پر دراصل امریکی اور اسرائیلی مؤقف کو پیش کیا گیا، جو سلامتی کونسل جیسے عالمی فورم کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔

یہ بھی پڑھیں:یمن کے وزیراعظم مستعفی ہو گئے

ایرانی مندوب نے انکشاف کیا کہ ایران کو 8 اور 10 جنوری کو داعش طرز کی دہشتگردی کا سامنا کرنا پڑا، جس میں بے گناہ شہری نشانہ بنے، دہشتگردی کے ان واقعات پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے، ایران کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

امیر سعید ایروانی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران مسائل کے حل کیلئے سفارتی راستے پر یقین رکھتا ہے اور بات چیت کو ترجیح دیتا ہے، لیکن اگر براہ راست یا بالواسطہ طور پر ایران کیخلاف کسی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔