یمن کے وزیراعظم مستعفی ہو گئے
Yemen prime minister resignation
فائل فوٹو
صنعا: (ویب ڈیسک) یمن کے وزیراعظم سالم صالح بن بریک نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

عرب میڈیا کے مطابق یمن کی صدارتی قیادت کی کونسل نے وزیراعظم کا استعفیٰ باضابطہ طور پر قبول کر لیا، جس کے بعد فوری طور پر نئی قیادت کے تقرر کا اعلان بھی کر دیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق ملک کے موجودہ وزیر خارجہ ڈاکٹر شائع محسن الزندانی کو یمن کا نیا وزیراعظم مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کو ایسے وقت میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے جب یمن پہلے ہی شدید سیاسی، عسکری اور معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔

نئی تقرری سے متعلق حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر الزندانی سفارتی تجربہ رکھتے ہیں اور موجودہ حالات میں ان کی قیادت یمن کیلئے مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ یمن میں حالیہ مہینوں کے دوران سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ دسمبر میں متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ علیحدگی پسند گروپ جنوبی عبوری کونسل نے یمن کے جنوبی اور مشرقی علاقوں کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی شہزادی ہند بنت سعود بن عبدالعزیز آل سعود انتقال کرگئیں

 

 

رپورٹس کے مطابق یہ گروپ سعودی عرب کی سرحد کے قریب تک پہنچ گیا تھا، جس پر سعودی حکومت نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنی قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا تھا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی تبدیلی محض ایک انتظامی قدم نہیں بلکہ خطے میں جاری طاقت کی کشمکش اور اندرونی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ ایسے میں نئے وزیراعظم کیلئے سب سے بڑا چیلنج ملک میں استحکام، اتحادی قوتوں کے درمیان توازن اور بگڑتی سکیورٹی صورتحال پر قابو پانا ہوگا۔

یمن کے عوام کی نظریں اب نئی حکومت پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ قیادت ملک کو بحران سے نکالنے میں کامیاب ہو پائے گی یا نہیں۔