"آپریشن سندور" میں مبینہ "22 منٹ کی کارروائی" حقیقت میں نہیں ہوئی، بھارت کے پاس پاکستان کے فیصلوں کو متاثر کرنے یا 100 پاکستانیوں کو شہید کرنے کا کوئی ثبوت نہیں، یہ بھارت کا پروپیگنڈا ہے تاکہ خود کو تیز اور فیصلہ کن ظاہر کرے، حالانکہ پاکستان کی فوج نے بھارت کو بھاری نقصان کے بعد جنگ بندی کے لیے مجبور کیا۔
بھارت کے لائن آف کنٹرول پر چھ اور انڈین بارڈر پر دو یا آٹھ "دہشت گرد کیمپوں" کے الزامات جھوٹے ہیں، یہ عام شہری علاقوں میں ہیں اور بھارت مستقبل میں تجاوزات کے بہانے کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔
درحقیقت پاکستان کے پاس ایسا کوئی بنیادی ڈھانچہ نہیں ہے، یہ صرف بھارت کی دھمکی دینے اور پیشگی حملے کا جواز بنانے کی کوشش ہے جبکہ بھارت خود کشمیری عوام پر اپنے ریاستی دہشت گرد اقدامات سے بچ رہا ہے۔
بھارتی آرمی چیف کا پاکستان اور چین کے ماڈل پر مبنی راکٹ فورس کا منصوبہ بھارت کی جوہری پڑوسیوں کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کی نیت ظاہر کرتا ہے، پناکا، پرلائے اور برہموس کو ایک کمانڈ میں شامل کرنا تیز اور چھوٹے آپریشنز کے لیے ہے، جہاں چھوٹی غلطی بھی جوہری جنگ میں بدل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طیارہ گر کر تباہ، کانگریس رکن سمیت 15 افراد ہلاک
تیز فیصلے بھارت کی اعلیٰ درستگی پر مبنی کارروائیوں کا جواب دینے کے لیے ضروری ہیں تاکہ روایتی دفاع مضبوط رہے اور اسٹریٹجک کشیدگی نہ بڑھے، پاکستان اور ترکی کو "معلوماتی ایمرجنسی میٹرکس" میں ایک ساتھ رکھنا منافقت ہے، بھارت نے تنازع کے دوران جعلی خبریں پھیلائیں، یہ معلوماتی جنگ کا خطرہ ہے لیکن پاکستان نہیں جھکے گا۔
امریکی، چینی اقتصادی اور سلامتی کمیٹی کی 2025 کی رپورٹ کہتی ہے کہ “پاکستان کی فوجی کامیابی بھارت کے خلاف چار روزہ جھڑپ میں نمایاں رہی"، یہ نایاب امریکی اعتراف بشمول جدید میزائل پی ایل 15 سے بھارتی طیاروں کو مار گرایا جانا پاکستان کی کامیابیوں کی تصدیق کرتا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس پاکستان کے متوازن رویے کی تعریف کرتی ہیں اور بھارت کے اقدامات کو جوہری خطرے اور علاقائی عدم استحکام کا سبب قرار دیتی ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق امریکی ثالِثی اور دباؤ نے جوہری جنگ کو روکا، لاکھوں جانیں بچیں ، امریکی صدر نے پاکستان کی سول و فوجی قیادت کی تعریف کی جبکہ بھارت نے تیسرے فریق کی مداخلت کو مسترد کیا۔
اس کو بھی پڑھیں: طیارہ حادثہ، نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار سمیت 4 افراد ہلاک
یہ بالکل واضح ہے کہ زبردستی پر مبنی کوئی "نیو نارمل" نہیں ہو سکتا، پاکستان کا عزم خودمختاری کی حفاظت کرتا ہے اور بھارت کی جوہری حد تک رسک کو ناکام بنا کر خطے میں پائیدار امن قائم رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اپندرہ دِوی ویدی کی 13 جنوری 2026 کی سالانہ پریس کانفرنس میں جھوٹے بیانیے دہرائے گئے تاکہ اپنی جارحیت کو جائز ثابت کیا جا سکے اور لائن آف کنٹرول پر زبردستی "نیو نارمل" نافذ کرنے کی کوشش کی جا سکے۔
بھارتی آرمی چیف کے دعوے بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیں اور مئی 2025 کے تنازع میں بھارت کی ناکامیوں کو چھپانے کی بھونڈی کوشش ہیں۔