وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس دسمبر کے مقابلے رواں سال جنوری میں مہنگائی کی شرح میں 0.39 فیصد کا اضافہ ہوا، ملک میں مہنگائی بڑھنے کی سالانہ شرح 5.80 فیصد ہو گئی، جولائی 2025 تا جنوری 2026 میں اوسط مہنگائی 5.24 فیصد رہی۔
ادارہ شماریات کے مطابق دسمبر2025 میں مہنگائی بڑھنے کی سالانہ شرح 5.6فیصد رکارڈ کی گئی تھی ،گزشتہ ماہ دیہات میں ماہانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح0.61 فیصد بڑھی جبکہ جنوری 2026 میں شہروں میں مہنگائی میں 0.23 فیصد کا اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ ماہ دیہات میں مہنگائی کی سالانہ شرح 5.79 فیصد رہی ، جنوری میں شہروں میں مہنگائی کی سالانہ شرح 5.81 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ادارہ شماریات کے مطابق ماہانہ بنیاد پر زندہ برائلر مرغی 16 فیصد سے زائد مہنگی ہو گئی ، گندم 10 فیصد، ٹماٹر 7 فیصد، آٹا 4.8 فیصد تک مہنگا ہوا ، گزشتہ ماہ پھل 2.28 فیصد اور مصالحہ جات دو فیصد تک مہنگے ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی صارفین کو ایک اور جھٹکا دینے کی تیاری
اسی طرح مچھلی، بیکری آئٹمز، دال مونگ، خشک میوہ جات اور آئل بھی مہنگی ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں جبکہ جنوری میں خشک دودھ اور گوشت کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ، واٹر سپلائی 5.8 فیصد اور گاڑیوں کا سامان تقریباً دو فیصد تک مہنگا ہوا جبکہ گھروں کا کرایہ، تعمیراتی سامان، مزدوری بھی مہنگی ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق جنوری میں پیاز اور آلو 28 فیصد جبکہ سبزیاں 16.59 فیصد تک سستی ہوئیں، چینی 9.60 فیصد اور انڈے 6 فیصد سے زائد سستے ہوئے ، ایک ماہ میں موٹر فیول 3.31 فیصد سستا ہوا جبکہ بجلی چارجز میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔
اسی طرح گزشتہ ماہ دال چنا، دال مسور، دال ماش، بیسن، گُڑ اور سگریٹس سستی ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں۔