برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریہ کورینا ماچاڈو نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران گزشتہ برس ملنے والا نوبل امن انعام (میڈل) انہیں پیش کیا جسے صدر ٹرمپ نے قبول کر لیا ہے۔
یہ ملاقات ایک گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہی جس میں وینزویلا کی موجودہ صورتحال اور سیاسی مستقبل پر تبادلہ خیال گیا، تاہم وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ اس میڈل کو اپنے پاس رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
بعد ازاں صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ پیغام میں کہا کہ ماریہ ماچاڈو نے اپنی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں نوبل امن انعام پیش کیا ہے جو کہ باہمی احترام کی ایک خوبصورت مثال ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیول: سابق صدر یون سُک یول کو 5 سال قید کی سزا
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ماریہ ماچاڈو نے کہا کہ امریکی صدر نے وینزویلا کی عوام کی آزادی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے اسی اعتراف میں انہوں نے یہ میڈل بطور تحفہ پیش کیا۔
وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد ماریہ ماچاڈو نے کیپٹل ہل میں متعدد سینیٹرز اور ریپبلکن و ڈیموکریٹک راہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔
واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی فوج نے وینزویلا میں کارروائی کے بعد صدر نکولس مادورو کو اہلیہ سمیت گرفتار کر کے عبوری حکومت قائم کی ہے، تاہم صدر ٹرمپ پہلے ہی اس بات کا امکان مسترد کر چکے ہیں کہ ماریہ ماچاڈو کو اقتدار منتقل کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کویت جانے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری
دوسری جانب صدر ٹرمپ اپنی دوسری مدت صدارت کے دوران کئی جنگیں رکوانے کا کریڈٹ لیتے ہوئے خود کو نوبل امن انعام کا مستحق قرار دیتے رہے ہیں جبکہ پاکستان سمیت متعدد ممالک انکے نام کی سفارش بھی کر چکے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق نوبل انسٹیٹیوٹ پہلے ہی وضاحت کر چکا ہے کہ نوبل انعام جس شخصیت کو دیا جاتا ہے وہ اعزاز اسی کے نام رہتا ہے اور اسے منتقل یا منسوخ نہیں کیا جاسکتا۔