یون سُک یول پر دسمبر 2024 میں غیر آئینی طور پر مارشل لاء نافذ کرنے، حکام کو اپنی گرفتاری کے وارنٹ پر عمل درآمد سے روکنے اور سرکاری دستاویزات میں جعل سازی کے الزامات ثابت ہوئے۔ عدالت نے قرار دیا کہ سابق صدر نے ریاستی اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قانون کی بالادستی کو نقصان پہنچایا۔
اس اہم مقدمے کا عدالتی فیصلہ براہِ راست نشر کیا گیا، جسے عوام اور سیاسی حلقوں نے غیرمعمولی توجہ سے دیکھا۔ یہ فیصلہ جنوبی کوریا کی عدالتی تاریخ میں ایک نمایاں مثال قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ایک سابق صدر کو قانون کے مطابق سزا سنائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:یمن کے وزیراعظم مستعفی ہو گئے
واضح رہے کہ استغاثہ نے سیول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپنے حتمی دلائل میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ یون سُک یول اور ان کے سابق وزیرِ دفاع کم یونگ ہیون نے اقتدار میں برقرار رہنے کیلئے ایک منظم اور سوچا سمجھا منصوبہ بنایا تھا، جس کے تحت مارشل لاء کا اعلان کیا گیا۔ استغاثہ کے مطابق یہ اقدامات جمہوری نظام کے لیے سنگین خطرہ تھے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے جنوبی کوریا میں جمہوریت اور عدالتی خودمختاری کو تقویت ملے گی، جبکہ یہ پیغام بھی جائے گا کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں۔