حکام کے مطابق امریکا نے 75 ممالک کے لئے امیگرنٹ ویزا پراسیس غیر معینہ مدت کے لئے منجمد کی، امریکی وزارت خارجہ نے پبلک چارج رول کے مطابق امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ منجمد کی ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فراڈ،جانچ پڑتال اور حکومت پر بوجھ بننے کے خدشات کے باعث 75 ممالک کی ویزا پراسیسنگ منجمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق فہرست میں شامل ممالک کے لوگ غلط بیانی کر کے امریکا آتے ہیں، کئی ملکوں کے شہری امیگرنٹ ویزے پر امریکا آنے کے بعد واپس نہیں جاتے۔
امریکی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان، افغانستان، البانیہ، الجزائر، انٹیگوا ، باربورڈ، آرمینیا اور آذربائیجان فہرست میں شامل ہیں، بہا ماس، بنگلا دیش، بار با ڈوس، بیلا روس، بیلیز، بھوٹان اور بوسنیا کی امیگرنٹ ویزا پراسیس معطل کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں غیرقانونی تارکین وطن کیخلاف کریک ڈاؤن تیز
اسی طرح برازیل، برما، کمبوڈیا، کیمرون، کیپ وردے، کولمبیا، کیوبا اور جمہوریہ کانگو بھی فہرست میں شامل ہیں، ڈومینیکا، مصر، اریٹیریا، ایتھوپیا، فجی، گیمبیا، جارجیا، گھانا، گریناڈا اور گوئٹے مالا بھی فہرست میں موجود ہیں۔
امریکی وزارت خارجہ کے مطابق گنی، ہیٹی، ایران، عراق، جمیکا، اردن، قازقستان، کوسوو، کویت اور کرغزستان کی ویزا پراسیسنگ معطل کی گئی ہے، لبنان، لاؤس، لائبیریا، لیبیا، مقدونیہ، مالدووا، منگولیا، مونٹی نیگرو، مراکش اور نیپال کی بھی امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ معطل کر دی گئی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نکاراگوا،نائیجریا، کانگو، روس، روانڈا، سینٹ کٹس اینڈ نیوس بھی فہرست میں شامل ہیں، سینٹ لوشیا، سینٹ ونسنٹ اینڈ دی گرینا ڈینز، سینیگا اور سیرالیون بھی فہرست میں موجود ہیں۔
اس کو بھی پڑھیں: سویڈن کا پاکستانی طلبہ کیلئے مکمل فنڈڈ اسکالرشپس کا اعلان
اسی طرح صومالیہ،سوڈان، شام،تنزانیہ،تھائی لینڈ، ٹوگو، تیونس، یوگنڈا، یوراگوئے، ازبکستان اور یمن کی امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ غیر معینہ مدت کے لیے معطل کی گئی ہے۔
ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے بتایا کہ ویزا پابندی کے دورانیے اور اس کے ممکنہ اثرات سے متعلق آئندہ تفصیلی ہدایات جاری کی جائیں گی جبکہ متاثرہ افراد کو سہولت فراہم کرنے کے لیے اضافی اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سےایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکا اس بات کو یقینی نہیں بنا لیتا کہ نئے تارکین وطن امریکی عوام کی دولت سے ناجائز فائدہ نہیں اٹھائیں گے۔