برطانیہ میں غیرقانونی تارکین وطن کیخلاف کریک ڈاؤن تیز
برطانیہ میں غیر قانونی طور پر کام کرنے والے تارکین وطن کے خلاف حکومت نے کریک ڈاؤن تیز کر دیا، غیر قانونی تارکین کی گرفتاریوں میں اضافہ ہو گیا۔
فائل فوٹو
لندن: (سنو نیوز) برطانیہ میں غیر قانونی طور پر کام کرنے والے تارکین وطن کے خلاف حکومت نے کریک ڈاؤن تیز کر دیا، غیر قانونی تارکین کی گرفتاریوں میں اضافہ ہو گیا۔

برطانوی ہوم آفس کے مطابق لیبر پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد نیل بارز، کار واش، باربرز اور ٹیک اوے پر چھاپوں میں 77 فیصد اضافہ ہوا، غیر قانونی طور پر کام کرنے والوں کی گرفتاریاں بھی 83 فیصد بڑھیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اپوزیشن جماعتیں خبردار کر چکی ہیں کہ غیر قانونی طور پر کام کرنے کے مواقع لوگوں کی سمندر کے راستے آنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، 2025 میں 41 ہزار سے زائد غیرقانونی تارکین وطن چھوٹی کشتی پر سمندر کے راستے برطانیہ پہنچے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025 میں غیر قانونی طور پر برطانیہ آئے افراد کی تعداد 2022 کے بعد سب سے زائد اور 2024 کی نسبت پانچ ہزار زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مسافر ٹرین پر کرین گرنے سے 22 افراد لقمہ اجل بن گئے

شیڈو ہوم سیکرٹری کرس فلپ نے کہا ہے کہ لیبر حکومت کی نرمی کے سبب غیرقانونی طور پر کام عروج پر ہے، جب تک لوگ آکر غیرقانونی طور پر کام کرتے رہیں گے، انسانی اسمگلرز کا کام بھی چلتا رہے گا۔

میڈیا رپورٹ میں کہا گیا کہ ہوم آفس کے مطابق جولائی 2024 سے دسمبر 2025 تک امیگریشن انفورسمنٹ ٹیموں نے 17 ہزار 400 چھاپے مارے، مختلف کاروباروں پر چھاپوں کی یہ شرح گزشتہ 18 ماہ کے دوران 77 فیصد زائد ہے، چھاپوں کے دوران 12 ہزار 300 گرفتاریاں کی گئیں جبکہ 1700 سے زائد افراد کو ملک بدر کیا گیا۔

اس کو بھی پڑھیں: عمان کا پاکستانیوں کے لیے داخلے کے سخت قواعد متعارف

رپورٹ کے مطابق امیگریشن انفورسمنٹ ٹیموں نے ملک بھر میں چھاپے مارے، لندن میں 2 ہزار 100 گرفتاریاں ہوئیں جو گزشتہ برس کی نسبت 47 فیصد زیادہ ہیں، ویسٹ مڈلینڈز اور جنوب مغربی انگلینڈ میں ایک ہزار 100 افراد کو گرفتار کیا گیا، گرفتاریوں میں بالترتیب 76 اور 91 فیصد اضافہ ہوا۔

میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ ناردرن آئرلینڈ میں 187 چھاپوں کے دوران 234 گرفتاریاں ہوئیں، ہوم سیکرٹری شبانہ محمود نے کہا ہے کہ غیرقانونی طور پر کام کرنے کیلئے ہماری کمیونٹیز میں کوئی جگہ نہیں ہے۔