سلطنتِ عمان نے غیر ملکی کارکنوں کے لیے نئے ملازمت اور داخلہ ضوابط کا اعلان کیا ہے جن کا مقصد افرادی قوت کے معیار کو بہتر بنانا اور جعلی اسناد کے استعمال کا خاتمہ کرنا ہے۔
نظرثانی شدہ فریم ورک کے تحت غیر ملکی کارکنوں کو اب عمان میں داخلے سے قبل اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ اسناد کی تصدیق کروانا ہوگی، یہ قواعد خاص طور پر ریگولیٹڈ پیشوں پر لاگو ہوں گے جن میں انجینئرنگ، لاجسٹکس، اکاؤنٹنگ اور دیگر ہنر مند شعبے شامل ہیں۔
درخواست دہندگان کو آمد سے قبل ایک تشخیصی مرحلہ مکمل کرنا ہوگا جس کے دوران منظور شدہ شعبہ جاتی مہارت یونٹس ان کی اسناد کا جائزہ لیں گے، صرف وہ امیدوار جو تصدیقی عمل میں کامیاب ہوں گے انہیں ورک پریکٹس لائسنس جاری کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: روسی تیل پر تنازع: ڈونلڈ ٹرمپ کی بھارت کو دھمکی
عمانی حکام نے واضح کیا ہے کہ داخلہ اجازت نامے صرف لائسنس کی منظوری کے بعد ہی جاری کیے جائیں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کارکن آمد سے پہلے پیشہ ورانہ معیار پر پورا اترتے ہوں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ جعلی یا فرضی دستاویزات جمع کروانے پر سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں جن میں مستقل پابندی، بھاری جرمانے، لائسنس کی منسوخی، ملک بدری اور قانونی کارروائی شامل ہے، خلاف ورزیوں میں ملوث آجروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔
یہ نئی پالیسی عمان کی وسیع تر لیبر مارکیٹ اصلاحات کا حصہ ہے جس کا مقصد معاشی سالمیت کا تحفظ، پیداوار میں بہتری اور بین الاقوامی روزگار معیارات کی پابندی کو یقینی بنانا ہے۔