انہوں نے کہا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے مقرر کردہ زیادہ ویٹیج معیار کی وجہ سے داخلے مکمل نہیں ہو سکے۔
کمیٹی کے چیئرمین نے مزید بتایا کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ خصوصی کمیٹی نے سالانہ میڈیکل کالج فیس 18 لاکھ روپے مقرر کی ہے۔
تاہم بعض نجی میڈیکل کالج 30 لاکھ روپے تک فیس وصول کر رہے ہیں، انہوں نے پی ایم ڈی سی سے مطالبہ کیا کہ وہ زائد فیسوں کے مسئلے پر توجہ دے۔
اجلاس کے دوران یہ مطالبہ کیا گیا کہ ایم ڈی کیٹ میں فیل ہونے والے طلبہ کے لیے ضمنی امتحان کا انعقاد کیا جائے، ان کا کہنا تھا کہ صرف ایک نمبر سے رہ جانے پر کسی طالب علم کا پورا تعلیمی سال ضائع ہونا افسوسناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بی آئی ایس پی: قسط 13,500 روپے سے بڑھا کر 14,500 روپے کر دی گئی
کمیٹی کے چیئرمین نے تجویز دی کہ ایم ڈی کیٹ کے پاسنگ مارکس 33 فیصد مقرر کیے جائیں۔
دوسری جانب مصطفیٰ کمال نے سفارش کی کہ کمیٹی پی ایم ڈی سی کو ہدایت دے کہ وہ پاسنگ مارکس کا ازسرِنو جائزہ لے، ممکنہ طور پر انہیں کم کرے اور اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔
کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہر سال 22 ہزار سے زائد طلبہ داخلہ حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں جو ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور فوری توجہ کا متقاضی ہے۔