پاکستانیوں کے لیے برطانیہ کے ورک ویزا قوانین مزید سخت
UK work visa rules
فائل فوٹو
(ویب ڈیسک): برطانوی حکومت نے ورک ویزا سے متعلق نئے امیگریشن قوانین متعارف کرا دیے ہیں۔

برطانیہ نے 8 جنوری 2026 سے نافذ ہونے والے نئے امیگریشن قواعد کا باضابطہ اعلان کیا ہے جن کے تحت مختلف ویزا کیٹیگریز میں شرائط مزید سخت کر دی گئی ہیں۔

ان تبدیلیوں کا زیادہ تر اثر اسکلڈ ورکر ویزا، ہائی پوٹینشل انفرادی ویزا اور اسکیل اپ ویزا پر پڑے گا جہاں انگریزی زبان کی اعلیٰ مہارت پر خاص زور دیا گیا ہے۔

نئے قوانین کے مطابق ورک ویزا کے لیے درخواست دینے والے پاکستانی پیشہ ور افراد کو ابB2 لیول کی انگریزی مہارت ثابت کرنا ہوگی جو کہ پہلے کے معیار سے زیادہ سخت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مشہور اداکار میٹ پروکوپ گرفتار، جیل منتقل کردیا گیا

 تاہم، موجودہ ویزا ہولڈرز ان نئی شرائط سے متاثر نہیں ہوں گے، نئے درخواست گزاروں کے لیے ان تقاضوں کو پورا نہ کرنے کی صورت میں درخواست میں تاخیر یا مسترد ہونے کا خدشہ ہے، یہ اقدام برطانوی حکومت کی اس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد غیر ملکی پیشہ ور افراد کو معاشرے اور ورک فورس میں بہتر طور پر ضم کرنا ہے۔

پاکستان ہر سال آئی ٹی، ہیلتھ کیئر، انجینئرنگ اور فنانس جیسے شعبوں میں ہزاروں پیشہ ور افراد برطانیہ بھیجتا ہے، ماہرین کے مطابق نئے قوانین ممکنہ درخواست گزاروں پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وانا میں دھماکہ، جے یو آئی کے رہنما زخمی، ہسپتال منتقل

پاکستانی امیدواروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی انگریزی مہارت کا جائزہ لیں، ضرورت پڑنے پر زبان سیکھنے کے کورسز میں داخلہ لیں اور درخواست جمع کروانے سے پہلے تمام اہلیت کی شرائط کا بغور مطالعہ کریں۔

نئے قوانین کے تحت ورک ویزا کے خواہشمند پاکستانی پیشہ ور افراد کو چاہیے کہ وہ برطانوی ہوم آفس کی سرکاری ہدایات سے رجوع کریں اور تمام دستاویزات پہلے سے مکمل رکھیں،B2 لیول انگریزی شرط پوری کرنا انتہائی ضروری ہے بصورتِ دیگر درخواست مسترد ہونے یا کارروائی میں تاخیر کا سامنا ہو سکتا ہے۔