چاند پر دو فٹبال گراؤنڈ جتنا نیا گڑھا دریافت، سائنسدان بھی حیران
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حیران کن دریافت امریکی خلائی ادارے کے سائنسدان رابرٹ ویگنر نے چاند کے نقشے کی معمول کی جانچ کے دوران کی۔ ڈیٹا کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں چاند کی سطح پر ایک غیر معمولی طور پر روشن مقام دکھائی دیا، جس کے گرد ایک تاریک ہالہ موجود تھا۔
سائنسدانوں نے اس مقام کی مزید تصاویر اور اعداد و شمار کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ چاند کی سطح پر ایک بڑا خلائی گڑھا بن چکا ہے۔ ماضی اور حال کی تصاویر کا موازنہ کرنے کے بعد اسے نظام شمسی میں حالیہ عرصے کے دوران دریافت ہونے والے بڑے نئے گڑھوں میں شمار کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ گڑھا ۱۱ اپریل اور ۲۲ مئی ۲۰۲۴ کے درمیان چاند کے مشرقی کنارے پر بنا۔ سائنسدانوں نے اسے میک گیچن کا نام دیا ہے، جو ایک سائنسدان کے نام سے منسوب ہے۔
ماہرین کے مطابق ۷۲۸ فٹ چوڑے اس گڑھے کا حجم اس قدر بڑا ہے کہ اس کا موازنہ تقریباً دو فٹبال میدانوں سے کیا جا سکتا ہے۔ سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ چاند پر اس حجم کے اثرات پیدا کرنے والا واقعہ تقریباً ایک صدی یا اس سے بھی زیادہ عرصے میں ایک مرتبہ رونما ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی خلائی ادارے کا چاند کا گردشی کھوجی گزشتہ ۱۷ برس سے زائد عرصے سے چاند کے گرد گردش کر رہا ہے۔ یہ خلائی مشن چاند کی سطح، ساخت، درجہ حرارت اور تابکاری کے ماحول کا مسلسل مطالعہ کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اے آئی اور سی سی ٹی وی کیمروں سے بچانے والی شرٹ تیار
نئی دریافت سے سائنسدانوں کو چاند پر خلائی اجسام کے ٹکرانے اور اس کی سطح میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے میں مزید مدد ملنے کی توقع ہے۔