اے آئی اور سی سی ٹی وی کیمروں سے بچانے والی شرٹ تیار
جرمن ڈیزائنر سائمن ویکرٹ کی تیار کردہ اس خصوصی شرٹ کو ڈیجیٹل کیموفلاج کا نام دیا گیا ہے، بظاہر یہ ایک عام اور جدید انداز کی شرٹ دکھائی دیتی ہے، تاہم اس پر بنائے گئے مخصوص ڈیزائن اور پیٹرنز کا مقصد نگرانی کے جدید نظام کو چیلنج کرنا ہے۔
سائمن ویکرٹ کے مطابق شرٹ پر موجود پیٹرنز اس انداز میں ترتیب دیے گئے ہیں کہ اے آئی سے چلنے والے کیمروں کیلئے انسانی جسم یا پہننے والے کی شناخت کے عمل میں خلل پیدا ہوسکے۔ اس طرح یہ لباس صرف فیشن کے بجائے جدید نگرانی کی ٹیکنالوجی کے خلاف ایک احتجاجی تصور کے طور پر بھی پیش کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ڈیزائنر اس سے قبل بھی ٹیکنالوجی کے مختلف نظاموں پر تجربات کرچکے ہیں، سال 2020 میں انہوں نے گوگل میپس کے ٹریفک سسٹم کو متاثر کرنے کیلئے ایک دلچسپ تجربہ کیا تھا۔ اس مقصد کیلئے ایک چھوٹی ریڑھی میں 99 اسمارٹ فونز رکھ کر اسے ہیمبرگ کی خالی سڑکوں پر گھمایا گیا۔
اس تجربے کے بعد گوگل میپس پر ان سڑکوں پر ٹریفک جام دکھائی دینے لگا، حالانکہ حقیقت میں وہاں کوئی ٹریفک موجود نہیں تھی۔ اس تجربے کے ذریعے ڈیزائنر نے ٹیکنالوجی کے خودکار نظاموں کی حساسیت کی جانب توجہ مبذول کرائی۔
سائمن ویکرٹ نے ایک ایسی ڈیوائس بھی تیار کی جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ اسے جیب میں رکھنے سے قریبی بلوٹوتھ سگنلز میں خلل پیدا ہوسکتا ہے۔ ان منصوبوں کا بنیادی مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حکومتی نگرانی کے نظام کے حوالے سے سوالات اٹھانا اور احتجاج ریکارڈ کرانا بتایا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق نو پینلٹی نامی نئی شرٹ آن لائن تقریباً 75 ڈالر میں فروخت کی جارہی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 21 ہزار روپے بنتی ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق نگرانی سے بچاؤ کے ایسے دعووں کو ٹیکنالوجی اور کیمرہ سسٹم کے لحاظ سے الگ الگ جانچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جدید اسمارٹ فونز بھی مختلف سینسرز سے لیس ہوتے ہیں اور بعض صورتوں میں آنکھوں کی حرکت، نگاہ اور دیگر جسمانی حرکات سے متعلق معلومات کا تجزیہ کرسکتے ہیں، تاہم اس کا انحصار ڈیوائس، ایپلی کیشن اور صارف کی اجازت پر ہوتا ہے۔