رپورٹ کے مطابق ایک مثال میں گوگل کے اے آئی نے لبلبے کے کینسر کے مریضوں کو زیادہ چکنائی والی غذا سے پرہیز بتایا ہے جسے ماہرین نے طبی طور پر غلط اور مریض کی حالت بگاڑنے کا سبب قرار دیا ہے، اسی طرح جگر کے فنکشن ٹیسٹ سے متعلق معلومات میں بھی غلطی سامنے آئی جس کے باعث شدید بیماری میں مبتلا افراد خود کو صحت مند سمجھ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سی ایس ایس 2026 کی ریگولر ڈیٹ شیٹ جاری
ماہرین صحت اور فلاحی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ ایسی غلط معلومات مریضوں کو بروقت علاج سے دور کر سکتی ہیں اور بعض صورتوں میں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہیں، مریضوں کے حقوق سے وابستہ فورم کی ڈائریکٹر صوفی رینڈل کا کہنا ہے کہ گوگل کے اے آئی اوور ویوز بظاہر سہولت فراہم کرتے ہیں مگر غلط معلومات صارفین کی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
میری کیوری چیریٹی کی نمائندہ اسٹیفنی پارکر نے کہا کہ لوگ پریشانی اور بیماری کے وقت انٹرنیٹ پر انحصار کرتے ہیں، ایسے میں اگر معلومات غلط ہوں تو نقصان کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: 24 گھنٹوں کیلیے گیس کی فراہمی بند کرنے کا اعلان
دی گارڈین کے مطابق اے آئی اوور ویوز کے نفسیات اور کھانے کی عادات سے متعلق مشورے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
گوگل نے اس پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر اے آئی اوور ویوز درست و مددگار ہوتے ہیں اور کمپنی مسلسل معیار بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔