اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا تھا کہ حکومت انٹرنیٹ کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے، گزشتہ برس انٹرنیٹ کی بندش کو کم سے کم رکھنے کی بھرپور کوشش کی گئی ، اس سلسلے میں وزارت داخلہ کا تعاون بھی حاصل رہا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پورا پاکستان 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم پر چل رہا ہے، وفاقی کابینہ نے 5 جی اسپیکٹرم کی نیلامی کی توثیق کر دی ہے، فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی آئندہ ماہ فروری میں کی جائے گی، 5 جی اسپیکٹرم کی نیلامی بہتر سے بہتر شرائط پر کرائی جائے گی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ فائیو جی کی نیلامی کے لیے 7 مختلف بینڈز دستیاب ہیں جن میں سے 5 نئے بینڈز کی نیلامی کی جائے گی اور ہر بینڈ اپنی کوالٹی اور خصوصیات کا حامل ہے، 5جی کی نیلامی کے 3 سے 4 مہینوں بعد 4 جی سروس میں نمایاں بہتری نظر آئے گی ، پہلے 6 ماہ میں بڑے شہروں میں فائیو جی سروس شروع کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: موبائل اور انٹرنیٹ صارفین کیلئے سائبر سکیورٹی الرٹ جاری
شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پاکستان میں حکومت کی جانب سے شہریوں کو آسان ماہانہ قسطوں پر 5 جی اسمارٹ فونز فراہم کیے جائیں گے،کابینہ نے ایم وی این او پالیسی کی بھی منظوری دے دی ہے جس کے تحت ایم وی این او کمپنیاں دیگر ٹیلی کام کمپنیوں کا نیٹ ورک استعمال کر کے سروس فراہم کر سکیں گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ٹیلی کام ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ سستے فائیو جی موبائلز کے بغیر ٹیکنالوجی صرف ایک طبقے تک رہنے کا اندیشہ ہے، ڈیوائس ریڈینس کے بغیر فائیو جی لانچ معاشی اثر محدود کر دے گا، پاکستان میں فائیو جی سمارٹ فونز کی تعداد تین ملین سے کم ہے، سستے فائیو جی فونز کی عدم دستیابی سے ڈیجیٹل تفریق بڑھنے کا امکان ہے۔
اس کو بھی پڑھیں: جی میل نے صارفین کیلئے بڑی اور حیران کن اپڈیٹ کر دی
ماہرین کا کہنا تھا کہ فائیو جی موبائلز کی مقامی سطح پر اسمبلنگ نہ ہونے سے زیادہ قیمتیں اور عام صارف تک رسائی محدود ہو گی، اسپیکٹرم کی زیادہ قیمت اور فارن کرنسی سٹرکچر نیٹ ورک رول آؤٹ اور توسیع میں رکاوٹ بن سکتا ہے، فائیو جی کے ثمرات تب ہی ممکن ہیں جب اسپیکٹرم پالیسی زمینی معاشی حقائق سے ہم آہنگ ہو۔
ٹیلی کام ماہرین نے کہا تھا کہ حکومت کو فائیو جی ڈیوائسز کی مقامی سطح پر اسمبلنگ کے لیے فوری مراعات متعارف کروانی چاہئیں،فائیو جی کی کامیابی کا پیمانہ ریونیو نہیں، صارفین، کوریج اور معاشی قدر ہو گی۔