نادرا نے پیدائشی سرٹیفکیٹ نہ رکھنے والے شہریوں کیلئے اہم ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے شناختی کارڈ کے اجرا کا نیا اور آسان طریقہ متعارف کرا دیا ہے جس کے تحت اب خصوص شرائط پوری کر کے رجسٹریشن ممکن ہوسکے گی تاہم یہ سہولت 31 دسمبر 2026 تک دستیاب رہے گی۔
حکام کے مطابق اس اقدام سے وہ افراد خاص طور پر مستفید ہوں گے جو اب تک کسی وجہ سے قومی شناختی نظام میں شامل نہیں ہوسکے، دیہی علاقوں کے رہائشی اور خواتین اس میں نمایاں طور پر شامل ہیں۔
نئی پالیسی کے تحت شادی شدہ خواتین نکاح نامہ، شوہر کے دستاویزات اور والدین میں سے ایک کی تصدیق کے ذریعے بائیو میٹرک ضروری ہے جبکہ غیر شادی شدہ خواتین کے لیے والدین میں سے کسی ایک کی تصدیق لازمی قرار دی گئی ہے۔
اسی طرح چوبیس سال یا اس سے زائد عمر کے مردوں کیلئے شرط رکھی گئی ہے کہ خاندان کا کم از کم ایک فرد پہلے سے رجسٹرڈ ہو اور والدین میں سے ایک کی بایومیٹرک تصدیق دستیاب ہو تاہم بعض صورتوں میں خصوصی جانچ کے بعد نرمی بھی دی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت پنجاب: امداد لینے کیلئے ان نمبرز پر رابطہ کریں
نادرا کے مطابق اس سہولت کے تحت پہلی بار شناختی کارڈ حاصل کرنے والوں کو سادہ کارڈ بلا معاوضہ فراہم کیا جائے گا تاہم رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد کوائف میں کسی قسم کی تبدیلی کی اجازت نہیں ہوگی اس لیے درست معلومات دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب پنجاب میں تاریخ پیدائش کی تبدیلی کے قواعد مزید سخت کر دیے گئے ہیں، اب اس کے لیے عدالتی حکم اور باقاعدہ پیدائشی اندراج پیش کرنا ضروری ہوگا بصورت دیگر درخواست مسترد کر دی جائے گی۔
ادارے کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد باقی ماندہ شہریوں کو قومی شناختی نظام میں شامل کرنا، سہولت فراہم کرنا اور نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
شہریوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ مقررہ مدت میں قریبی مرکز سے رجوع کر کے اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔